حَدَّثَنَا أبو نَصْر محمد بن أحمد بن محمد، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن النَّضْرِ الحَرَشيُّ، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: دخل النَّبِيُّ ﷺ على عائشة وعندها امرأةٌ معها صبيٌّ لها يَسيلُ مَنْخِراهُ دمًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "ما شأنُ هذا؟ " قالوا: به العُذْرةُ، قال: "وَيْلَكنّ، لا تَقتُلنَ أولادَكنّ؛ أيّةُ امرأةٍ يأتي ولدَها العُذْرةُ فلتأخُذْ قُسْطًا هنديًّا فلتحُكَّه بالماء ثم لتُسعِطْه إياه"، ثم أَمر عائشةَ ففعلته بالصبي فبَرَأ (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8241 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ایک عورت تھی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اسے عذرہ (حلق کا ورم) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو؛ جس عورت کے بچے کو عذرہ کی تکلیف ہو اسے چاہیے کہ وہ قسطِ ہندی لے کر اسے پانی میں رگڑے اور پھر اسے ناک کے راستے اس کی نسوار دے“، پھر آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تو انہوں نے اس بچے کے ساتھ ایسا ہی کیا اور وہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور ابو سفیان کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمرو الحرشی "صدوق حسن الحدیث" ہیں۔ یہ حدیث نمبر (7644) پر اعمش سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے گزر چکی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "ابو زکریا نیشاپوری" ہیں۔