حدیث نمبر: 8445
حَدَّثَنَا أبو نَصْر محمد بن أحمد بن محمد، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن النَّضْرِ الحَرَشيُّ، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: دخل النَّبِيُّ ﷺ على عائشة وعندها امرأةٌ معها صبيٌّ لها يَسيلُ مَنْخِراهُ دمًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "ما شأنُ هذا؟ " قالوا: به العُذْرةُ، قال: "وَيْلَكنّ، لا تَقتُلنَ أولادَكنّ؛ أيّةُ امرأةٍ يأتي ولدَها العُذْرةُ فلتأخُذْ قُسْطًا هنديًّا فلتحُكَّه بالماء ثم لتُسعِطْه إياه"، ثم أَمر عائشةَ ففعلته بالصبي فبَرَأ (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8241 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ایک عورت تھی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اسے عذرہ (حلق کا ورم) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو؛ جس عورت کے بچے کو عذرہ کی تکلیف ہو اسے چاہیے کہ وہ قسطِ ہندی لے کر اسے پانی میں رگڑے اور پھر اسے ناک کے راستے اس کی نسوار دے“، پھر آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تو انہوں نے اس بچے کے ساتھ ایسا ہی کیا اور وہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8445
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان، ومحمد بن عمرو الحرشي صدوق حسن الحديث، وقد سلف الحديث برقم (7644) من غير هذا الوجه عن الأعمش» [ترقيم الرساله 8445] [ترقيم الشركة 8343] [ترقيم العلميه 8241]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان، ومحمد بن عمرو الحرشي صدوق حسن الحديث، وقد سلف الحديث برقم (7644) من غير هذا الوجه عن الأعمش. يحيى بن يحيى: هو أبو زكريا النيسابوري.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور ابو سفیان کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمرو الحرشی "صدوق حسن الحدیث" ہیں۔ یہ حدیث نمبر (7644) پر اعمش سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے گزر چکی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "ابو زکریا نیشاپوری" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8445 سے ماخوذ ہے۔