کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب والحُسين بن بشَّار (3) الخيّاط، قالا: حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمدٍ ابن عائشةَ، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ (4) قال: "إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ (5) عليه الماءَ الباردَ من السَّحَر ثلاثَ ليالٍ" (6).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8226 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تین راتوں تک اپنے اوپر ٹھنڈا پانی بہائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث یہ ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8430
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8430] [ترقيم الشركة 8328] [ترقيم العلميه 8226]
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان الرازيّ، حَدَّثَنَا الجَرّاح بن الضَّحاك الكندي، عن كُريب بن سُليم، عن أَمَةَ امرأةِ الزُّبير، قالت: كان النَّبِيّ ﷺ إذا حُمَّ الزُّبيرُ يأمرُنا أن نَبرُدَ الماءَ ثم نَحدُرَه عليه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خادمہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب زبیر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو نبی کریم ﷺ ہمیں حکم فرماتے کہ ہم پانی کو ٹھنڈا کریں اور پھر اسے ان پر بہا دیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8431
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة كريب بن سليم الكندي» [ترقيم الرساله 8431] [ترقيم الشركة 8329]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفّان، حَدَّثَنَا همَّام، حَدَّثَنَا أبو جَمْرة، قال: كنتُ أدفعُ الزِّحامَ عن ابن عباس، قال: فاحتَبستُ عنه أيامًا، فقال: ما حَبَسَك؟ قلت: الحُمّى، فقال: إِنَّ رسول الله ﷺ قال: "الحُمّى من فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوها بالماء" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8228 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو جمرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (ہجوم کی وجہ سے) لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہٹایا کرتا تھا، پھر میں چند دن ان کی مجلس سے غائب رہا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکا تھا؟ میں نے عرض کیا: بخار نے، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کے جوش میں سے ہے، پس اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8432
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عفان: هو ابن مسلم، وهمام: هو ابن يحيى العَوْذي، وأبو جمرة: هو نصر بن عمران» [ترقيم الرساله 8432] [ترقيم الشركة 8330] [ترقيم العلميه 8228]
أخبرني أبو عبد الرحمن بن [أبي] (3) الوَزير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازيّ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا إسماعيل بن مُسلم، عن الحَسَن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إنَّ الحُمَّى قِطعةٌ من النار، فابرُدُوها عنكم بالماء". قال: وكان رسول الله ﷺ إذا حُمَّ دعا بقِرْبةٍ من ماء فَأَفَرَغَها على قَرْنِه فاغتَسَل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8229 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے، پس اسے اپنے سے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کی مشک منگواتے اور اسے اپنے سر پر انڈیل کر غسل فرماتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8433
درجۂ حدیث محدثین: الشطر الأول صحيح لغيره
تخریج حدیث «الشطر الأول صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم: وهو المكي أبو إسحاق البصري» [ترقيم الرساله 8433] [ترقيم الشركة 8331] [ترقيم العلميه 8229]