حدیث نمبر: 8432
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفّان، حَدَّثَنَا همَّام، حَدَّثَنَا أبو جَمْرة، قال: كنتُ أدفعُ الزِّحامَ عن ابن عباس، قال: فاحتَبستُ عنه أيامًا، فقال: ما حَبَسَك؟ قلت: الحُمّى، فقال: إِنَّ رسول الله ﷺ قال: "الحُمّى من فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوها بالماء" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8228 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو جمرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (ہجوم کی وجہ سے) لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہٹایا کرتا تھا، پھر میں چند دن ان کی مجلس سے غائب رہا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکا تھا؟ میں نے عرض کیا: بخار نے، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کے جوش میں سے ہے، پس اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8432
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عفان: هو ابن مسلم، وهمام: هو ابن يحيى العَوْذي، وأبو جمرة: هو نصر بن عمران» [ترقيم الرساله 8432] [ترقيم الشركة 8330] [ترقيم العلميه 8228]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح عفان: هو ابن مسلم، وهمام: هو ابن يحيى العَوْذي، وأبو جمرة: هو نصر بن عمران.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عفان سے مراد ابن مسلم ہیں، ہمام سے مراد ابن یحییٰ العوذی ہیں، اور ابو جمرہ سے مراد نصر بن عمران ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2649)، والنسائي (7568)، وابن حبان (6068) من طريق عفان، بهذا الإسناد. وعندهم: "فابردوها بماء زمزم".
متابعات و شواہد: اسے احمد 4/ (2649)، نسائی (7568)، اور ابن حبان (6068) نے عفان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور ان کے ہاں الفاظ ہیں: "فابردوها بماء زمزم" (اسے آبِ زمزم سے ٹھنڈا کرو)۔
وسلف برقم (7627) من طريق عبد الله بن رجاء عن همام.
نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (7627) پر عبداللہ بن رجاء عن ہمام کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8432 سے ماخوذ ہے۔