کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس کی سفارش اللہ کی کسی حد کے آڑے آئی، اس نے گویا اللہ کے حکم کی مخالفت کی
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن بشر المَرثَدي، حدَّثنا بِشر بن معاذ، حدَّثنا عبد الله بن جعفر، حدثني مسلم بن أبي مريم، عن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن حالَتْ شفاعتُه دونَ حدٍّ من حدود الله، فقد ضادَّ الله تعالى في أمرِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8157 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8157 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کی راہ میں رکاوٹ بن گئی، اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی۔“
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا أنس بن عِيَاض، عن يحيى بن سعيد، حدثني عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر: أَنَّ رسول الله ﷺ قامَ بعد أن رَجَمَ الأسلميَّ، فقال: "اجتنِبُوا هذه القاذُورة التي نَهَى الله عنها، فمن ألَمَّ فليَستتِرْ بسِتْر الله، وليَتُبْ إلى الله، فإِنَّه مَن يُبدِ لنا صَفْحتَه نُقِمْ عليه كتابَ الله ﷿" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8158 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8158 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے اس شخص کو رجم کرنے کے بعد خطاب فرمایا: ”ان گندگیوں سے بچو جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے، پس جس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے پردے میں چھپا رہے اور اللہ کے حضور توبہ کرے، کیونکہ جو شخص ہمارے سامنے اپنی حالت ظاہر کر دے گا تو ہم اس پر اللہ عزوجل کی کتاب (کی حد) قائم کر دیں گے۔“
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسَّان، عن محمد بن واسع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَتَرَ أخاه المُسلمَ في الدنيا سَتَرَه الله في الدنيا والآخرة، ومَن نفَّس عن أخيه كُرْبةً من كُرَب الدنيا نَفَّسَ الله عنه كُرْبةً من كُرَب يومِ القيامة، واللهُ في عَوْنِ العبد ما كان العبدُ في عَوْنِ أخيه" (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8159 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8159 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جس نے اپنے بھائی کی کسی دنیاوی تکلیف کو دور کیا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور فرمائے گا، اور اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا حَيَّان بن هلال، حدَّثنا وُهَيب، حدَّثنا سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لا يَستُرُ عبدٌ عبدًا في الدنيا إِلَّا سَتَره اللهُ يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وهذا يُصحِّح حديثَ الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة، وحديثَ محمد بن واسع عن أبي صالح عن أبي هريرة (2)، وذاك أنَّ أسباط بن محمد القرشي رواه عن الأعمش عن بعض أصحابه عن أبي صالح، ورواه حمادُ بن زيد عن محمد بن واسع عن رجل عن أبي صالح (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8160 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وهذا يُصحِّح حديثَ الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة، وحديثَ محمد بن واسع عن أبي صالح عن أبي هريرة (2)، وذاك أنَّ أسباط بن محمد القرشي رواه عن الأعمش عن بعض أصحابه عن أبي صالح، ورواه حمادُ بن زيد عن محمد بن واسع عن رجل عن أبي صالح (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8160 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ دنیا میں کسی دوسرے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ حدیث ابوصالح سے مروی اعمش کی روایت اور محمد بن واسع کی روایت کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ اسباط بن محمد قرشی نے اسے اعمش سے ان کے بعض اصحاب کے واسطے سے روایت کیا ہے، جبکہ حماد بن زید نے محمد بن واسع سے ایک شخص کے واسطے سے ابوصالح سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ حدیث ابوصالح سے مروی اعمش کی روایت اور محمد بن واسع کی روایت کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ اسباط بن محمد قرشی نے اسے اعمش سے ان کے بعض اصحاب کے واسطے سے روایت کیا ہے، جبکہ حماد بن زید نے محمد بن واسع سے ایک شخص کے واسطے سے ابوصالح سے روایت کیا ہے۔