حدیث نمبر: 8357
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا أنس بن عِيَاض، عن يحيى بن سعيد، حدثني عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر: أَنَّ رسول الله ﷺ قامَ بعد أن رَجَمَ الأسلميَّ، فقال: "اجتنِبُوا هذه القاذُورة التي نَهَى الله عنها، فمن ألَمَّ فليَستتِرْ بسِتْر الله، وليَتُبْ إلى الله، فإِنَّه مَن يُبدِ لنا صَفْحتَه نُقِمْ عليه كتابَ الله ﷿" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8158 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے اس شخص کو رجم کرنے کے بعد خطاب فرمایا: ”ان گندگیوں سے بچو جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے، پس جس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے پردے میں چھپا رہے اور اللہ کے حضور توبہ کرے، کیونکہ جو شخص ہمارے سامنے اپنی حالت ظاہر کر دے گا تو ہم اس پر اللہ عزوجل کی کتاب (کی حد) قائم کر دیں گے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8357
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على يحيى بن سعيد» [ترقيم الرساله 8357] [ترقيم الشركة 8258] [ترقيم العلميه 8158]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على يحيى بن سعيد - وهو الأنصاري - عن عبد الله بن دينار في وصله وإرساله، والراجح إرساله كما قال الدارقطني في "العلل" (2811). وسلف الكلام عليه مفصلًا عند مكرره برقم (7807).
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اس سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں یحییٰ بن سعید (انصاری) پر اختلاف ہوا ہے جو وہ عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ آیا یہ "موصول" ہے یا "مرسل"۔ فنی نکتہ / علّت: راجح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے "العلل" (2811) میں فرمایا ہے۔ اس پر تفصیلی کلام اس کے مکرر مقام پر نمبر (7807) کے تحت گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8357 سے ماخوذ ہے۔