کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مسلمانوں میں سے جو اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے) اسے قتل کر دو
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني (1)، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن يُخالِفْ دينَه من المسلمين فاقتُلوه، وإذا قال العبدُ: أشهدُ أن لا إله إِلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فلا سبيلَ لنا إليه إلَّا بحقِّه إذا أصابَ أن يُقامَ عليه ما هو عليه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8091 - العدني هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے جو شخص اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے) اسے قتل کر دو، اور جب کوئی غلام یہ کہہ دے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں“، تو پھر اس کے حق کے سوا ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی راستہ نہیں ہے (یعنی اگر وہ کوئی جرم کرے تو اس پر حد قائم کی جائے گی)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8290
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، بهذا السياق من أجل حفص بن عمر العدني، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، فقال: العدني هالك» [ترقيم الرساله 8290] [ترقيم الشركة 8191] [ترقيم العلميه 8091]
أخبرني محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أبي، عن داود بن أبي هِند، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: كان رجلٌ من الأنصار أسلمَ، ثم ارتدَّ ولَحِقَ بالشِّرك، ثم نَدِمَ فأرسلَ إلى قومِه: أن سَلُوا رسول الله ﷺ: هل لي من توبةٍ؟ قال: فنزلت ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ﴾ [آل عمران: 86 - 89] قال: فأقبَلَ إليه قومُه فأسلمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8092 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص مسلمان ہوا، پھر وہ مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، پھر اسے ندامت ہوئی تو اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں کہ کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ تو یہ آیات نازل ہوئیں ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ سے ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ﴾ [سورة آل عمران: 86 - 89] تک، راوی کہتے ہیں کہ اس کی قوم کے لوگ اس کے پاس آئے تو وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8291
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8291] [ترقيم الشركة 8192] [ترقيم العلميه 8092]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الإمام وأبو الحسن علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب، حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا أبو إسحاق، عن حارثة بن مُضرِّب، عن الفُرَات بن حيَّان - وكان عينًا لأبي سفيان وحليفًا - وكان رسولُ الله ﷺ قد أمرَ بقتلِه، فمرَّ على حَلْقة من الأنصار، فقال: إنّي مُسلِمٌ، فقال رسول الله ﷺ: "إن منكم رِجالًا نَكِلُهم إلى إيمانِهم، منهم الفُرَاتُ بن حيّان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8093 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ (فرات بن حیان) ابوسفیان کے جاسوس اور (مشرکین کے) حلیف تھے اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہوا تھا، وہ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو کہا: میں مسلمان ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، فرات بن حیان بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8292
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي من أجل حارثة بن مضرب» [ترقيم الرساله 8292] [ترقيم الشركة 8193] [ترقيم العلميه 8093]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا علي بن صالح، عن سِمَاك بن حرب، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: كانت قُرَيظَةُ والنَّضِيرُ، وكان [النضيرُ أشرفَ] (2) من قريظةَ، فكان إذا قَتَلَ رجلٌ من قريظةَ رجلًا من النضير قُتِلَ به، وإذا قَتَلَ رجلٌ من النَّضير رجلًا من قريظةَ [فُدِيَ بمئةِ وَسْقٍ من تمر، فلما بُعِثَ النبيُّ ﷺ قَتَلَ رجلٌ من النَّضير رجلًا من قريظةَ] (3) قالوا: ادفَعُوه إلينا نقتُلْه، فقالوا: بينَنا وبينَكم النبيُّ ﷺ، فأتَوه فنزلت: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [المائدة: 42] [والقِسطُ] النَّفْسُ بالنَّفسِ، ثم نزلت: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهليَّةِ يَبْغُونَ﴾ [المائدة: 50] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8094 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (مدینہ میں) بنو قریظہ اور بنو نضیر دو قبیلے تھے، بنو نضیر کو بنو قریظہ پر فوقیت حاصل تھی، چنانچہ جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اس کے بدلے اسے قتل کر دیا جاتا، لیکن جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو قصاص کے بجائے اس کی دیت سو وسق کھجور مقرر تھی، جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم اسے قصاص میں قتل کریں، انہوں نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم ﷺ فیصلہ کریں گے، وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [سورة المائدة: 42] اور انصاف (قسط) یہ ہے کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهليَّةِ يَبْغُونَ﴾ [سورة المائدة: 50] ”کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8293
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، ففي بعض روايات سماك بن حرب عن عكرمة اضطراب، وقد اختلف على عكرمة في لفظه كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8293] [ترقيم الشركة 8194] [ترقيم العلميه 8094]