حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن طلحة بن يزيد بن رُكَانة، عن إسماعيل بن إبراهيم الشَّيباني، عن ابن عباس قال: أُتِيَ رسولُ الله ﷺ بيهوديٍّ ويهودية قد زَنَيا وقد أحصَنا، فسألوه أن يَحكُمَ فيهما، فحَكَمَ فيهما بالرَّجم فرَجَمَهما في قُبُل المسجد في بني غَنْم، فلما وَجَدَ مسَّ الحِجارة قام إلى صاحبتِه، فجَنَأَ عليها لِيَقِيَها مسَّ الحِجارة، وكان ممّا صَنَعَ الله لرسوله ﷺ قيامه إليها يَقِيها الحِجارة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا من غير أهل الصَّنعة يتوهَّم أن إسماعيل الشيباني هذا مجهول، وليس كذلك فقد روى عنه عمرو بن دينار الأثرم:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا من غير أهل الصَّنعة يتوهَّم أن إسماعيل الشيباني هذا مجهول، وليس كذلك فقد روى عنه عمرو بن دينار الأثرم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت لائے گئے جنہوں نے زنا کیا تھا اور وہ دونوں شادی شدہ تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے ان کے متعلق فیصلہ کرنے کی درخواست کی، تو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں رجم کا فیصلہ فرمایا اور انہیں مسجد کے سامنے بنو غنم کے علاقے میں رجم کیا گیا، جب یہودی نے پتھروں کی چوٹ محسوس کی تو وہ اپنی ساتھی عورت کی طرف جھکا تاکہ اسے پتھروں سے بچا سکے، اور یہ اللہ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کے لیے (سچائی کا) ثبوت تھا کہ وہ شخص اسے بچانے کے لیے اس پر جھک گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، شاید علمِ حدیث سے ناواقف کوئی شخص یہ گمان کرے کہ اسماعیل شیبانی نامی راوی مجہول ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ان سے عمرو بن دینار نے روایت لی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، شاید علمِ حدیث سے ناواقف کوئی شخص یہ گمان کرے کہ اسماعیل شیبانی نامی راوی مجہول ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ان سے عمرو بن دینار نے روایت لی ہے۔
كما حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن إسماعيل الشَّيباني، قال: بِعتُ ما في رؤوس نَخْلي مئة وشق، إن زاد فلهم وإن نقص فعليهم، فسألتُ ابنَ عمر فقال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن ذلك، إلَّا أنه رَخَّصَ في العَرَايا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8089 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8089 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
اسماعیل شیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کھجور کے درختوں کا پھل سو وسق کے بدلے فروخت کیا کہ اگر مقدار زیادہ ہوئی تو ان (خریدنے والوں) کی ہوگی اور اگر کم ہوئی تو ان کے ذمے ہوگی، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے «العَرَايا» (خاص ضرورت کے تحت کھجور کے تبادلے) میں رخصت دی ہے۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن أبي بِشر، عن خالد بن عُرْفُطة، عن حَبيب بن سالم، عن النُّعمان بن بَشير، عن النبيِّ ﷺ في الرجل أَتى جاريةَ امرأتِه، قال: "إن كانت حلَّلَتْها له جلدتُه مئةً، وإن لم تكن أحلَّتها (2) له رجمتُه" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8090 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8090 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی: ”اگر اس کی بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے حلال نہیں کی تھی تو میں اسے رجم کروں گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔