کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: وراثت کا مال حق داروں کو دو، اور جو باقی بچ جائے وہ قریبی مرد رشتہ دار کا ہے
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبّاس قال: قال النبيُّ ﷺ: "أَلحِقُوا المالَ بالفرائض، فما بقيَ فلأَولى رَجُلٍ ذَكَر" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنّ علي بن عاصم صَدُوق، ولم يخرجاه. وقد أرسله سفيان الثَّوري وسفيان بن عُيَينة وابن جُرَيج ومَعمَر بن راشد عن عبد الله بن طاووس. أما حديث الثَّوري:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنّ علي بن عاصم صَدُوق، ولم يخرجاه. وقد أرسله سفيان الثَّوري وسفيان بن عُيَينة وابن جُرَيج ومَعمَر بن راشد عن عبد الله بن طاووس. أما حديث الثَّوري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مال کو اس کے مقررہ حقداروں (اصحاب الفرائض) تک پہنچا دو، پھر جو باقی بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ علی بن عاصم صدوق ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ابن جریج اور معمر بن راشد نے اسے عبداللہ بن طاؤس سے مرسل روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ علی بن عاصم صدوق ہیں، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ابن جریج اور معمر بن راشد نے اسے عبداللہ بن طاؤس سے مرسل روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان الثَّوري (1). وأما حديثُ ابن عُيينة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کا مال اس کے مقررہ حقداروں کو دے دو، پھر جو باقی بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے۔“
فأخبرَناه أبو يحيى السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان بن عُيينة (2). وأما حديثُ ابن جُرَيج:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مال کو اس کے حقداروں تک پہنچاؤ، پھر جو فرائض سے بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد کا ہے۔“
فأخبرَناه أبو يحيى، حدثنا محمد بن نصر، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن جُرَيج (1). وأما حديثُ مَعمَر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مال کو اس کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کرو، پھر جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے۔“
فأخبرَناه أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر كلُّهم عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "ألحِقُوا المالَ بالفرائض، فما أبقَتِ الفرائضُ فهو لأَولى رجلٍ ذَكَر" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7973 - بل أجمعوا على ضعفه يعني علي بن عاصم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7973 - بل أجمعوا على ضعفه يعني علي بن عاصم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مال کو اس کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کرو، پھر مقررہ حصوں سے جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد رشتہ دار کے لیے ہے۔“