کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دادی (یا نانی) کی میراث کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ العَدْل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا القَعْنبي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن قَبيصة بن ذُؤَيب قال: جاءت الجَدَّةُ إلى أبي بكر بعدَ رسول الله ﷺ فقالت: إنَّ لي حقًّا؛ ابن ابنٍ - أو ابن ابنةٍ - لي مات، قال: ما علمتُ لك في الكتاب حقًّا، ولا سمعتُ من رسول الله ﷺ فيه شيئًا، وسأسألُ، فَشَهِدَ المغيرةُ بن شُعبة: أن رسولَ الله ﷺ أعطاها السُّدسَ، قال: مَن سَمِعَ ذلك معك؟ فشَهِدَ محمدُ بن مَسْلَمة، فأعطاها أبو بكر السُّدسَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7978 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7978 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ایک دادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میرا حق (وراثت) ہے کیونکہ میرے پوتے (یا نواسے) کا انتقال ہو گیا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کوئی مقررہ حق نہیں پاتا اور نہ ہی میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے، تاہم میں لوگوں سے دریافت کروں گا“، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ (1/6) عطا فرمایا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی یہ سنا ہے؟“ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی، چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ عطا فرما دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو يحيى السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة قال: جاء ابنَ عباس رجلٌ فقال: رجلٌ تُوفِّيَ وترك بنتَه وأختَه لأبيه وأُمَّه، قال: لابنتِه النِّصفَ وليس لأختِه شيءٌ، قال الرجلُ: فإنَّ عمر قَضَى بغير ذلك، جعلَ للابنة النِّصفَ، وللأخت النَّصفَ! قال ابن عباس: أأنتم أعلمُ أم الله؟ فلم أدْرِ (1) ما وجهُ هذا حتى لَقِيتُ ابنَ طاووس، فذكرتُ له حديثَ الزُّهْري، فقال: أخبرني أبي، أنه سمع ابنَ عباس يقول: قال الله ﷿: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [النساء: 176]، قال ابن عباس: فقلتُم أنتم: لها النِّصفُ وإنْ كان له ولدٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7979 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7979 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا: ایک شخص فوت ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی اور اپنی سگی بہن چھوڑی ہے (تو وراثت کا کیا حکم ہے)؟ انہوں نے فرمایا: ”بیٹی کے لیے نصف ہے اور بہن کے لیے کچھ نہیں ہے“، اس شخص نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس کے برعکس فیصلہ فرمایا تھا کہ بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف ہے! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ (راوی کہتے ہیں) مجھے اس کی وجہ سمجھ نہ آئی یہاں تک کہ میں ابن طاؤس سے ملا، میں نے ان سے زہری کی یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے بتایا کہ میرے والد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ ”اگر کوئی مرد فوت ہو جائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا نصف ہے“ [سورة النساء: 176]، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے بہن کے لیے اس صورت میں بھی نصف مقرر کر دیا ہے جب میت کی اولاد (بیٹی) موجود ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔