کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب تم گفتگو کرو تو فرائض (وراثت کے احکام) کے بارے میں تذکرہ کیا کرو
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي والحسين بن الفضل البَجَلي، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو هلال الراسبي، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، قال: كتب عمرُ بن الخطّاب إلى أبي موسى الأشعري: إذا لَهَوتُم فالْهَوا بالرَّمْى، وإذا تحدَّثتُم فتحدَّثُوا بالفرائض (1). هذا وإن كان موقوفًا فإنه صحيح الإسناد، ويؤيِّده قولُه ﷺ: "اقتَدُوا بِاللَّذِينِ من بعدي أبي بكر وعمرَ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7952 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7952 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: ”جب تم کھیل کود کا ارادہ کرو تو تیر اندازی کیا کرو، اور جب آپس میں گفتگو کرو تو فرائض (علمِ وراثت) کے بارے میں تذکرہ کیا کرو۔“
یہ اگرچہ موقوف روایت ہے لیکن اس کی سند صحیح ہے، اور اس کی تائید نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: ”میرے بعد ان دو کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر اور عمر۔“
یہ اگرچہ موقوف روایت ہے لیکن اس کی سند صحیح ہے، اور اس کی تائید نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: ”میرے بعد ان دو کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر اور عمر۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان الثَّوري، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله بن مسعود قال: مَن قرأَ منكم القرآنَ فليتعلَّم الفرائضَ، فإن لقيَه أعرابي قال: يا مُهاجِرُ، أتقرأُ القرآنَ؟ فيقول: نعم، فيقول: وأنا أقرأُ القرآنَ، فيقول الأعرابيُّ: أتَفرِضُ يا مهاجر؟ فإن قال: نعم، قال: زيادهُ خيرٍ، وإن قال: لا، حسبتُه قال: فما فَضلُكَ عليَّ يا مهاجُر؟! (3) قال الحاكم: هذا موقوف صحيح علي شرط الشيخين، شاهدٌ للمرسل الذي قدَّمنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7953 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7953 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہیے کہ وہ فرائض (علمِ وراثت) بھی سیکھے، کیونکہ ممکن ہے کہ اسے کوئی دیہاتی ملے اور پوچھے: اے مہاجر! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ وہ کہے: ہاں، تو وہ کہے گا: میں بھی قرآن پڑھتا ہوں، پھر وہ دیہاتی پوچھے گا: اے مہاجر! کیا تمہیں فرائض (وراثت کے حصے) معلوم ہیں؟ اگر وہ کہے گا: ہاں، تو وہ کہے گا: یہ تو مزید خیر کی بات ہے، اور اگر وہ کہے گا: نہیں، تو میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: تو پھر اے مہاجر! تمہاری مجھ پر فضیلت کیا ہوئی؟!“
یہ موقوف روایت ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مرسل روایت کے لیے شاہد ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔
یہ موقوف روایت ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مرسل روایت کے لیے شاہد ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا أبي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن جابر قال: جاءتِ امرأةُ سعد (1) بن الرَّبيع، فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، قال: فقال: "يَقضِي اللهُ في ذلك"، فنزلت آية الميراث، فأرسَلَ رسول الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال: "أَعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثينِ وأمَّهما الثُّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7954 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7954 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ سعد بن ربیع کی دو بیٹیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ جنگِ احد میں شہید ہو گئے تھے، اور ان کے چچا نے ان کا سارا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا“، چنانچہ وراثت کی آیت نازل ہوئی، تب رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”سعد کی دونوں بیٹیوں کو (مال کا) دو تہائی (2/3) حصہ دو، ان کی ماں کو آٹھواں (1/8) حصہ دو، اور جو باقی بچ جائے وہ تمہارا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أبيه، قال: إذا تُوفِّي الرجلُ أو المرأةُ وتركَ ابنةً واحدةً كان لها النِّصفُ، فإن كانتا اثنتين فما فوقَ ذلك كان لهنَّ الثُّلثانِ، وإن كان معَهنَّ ذَكَرٌ فلا فريضةَ لأحدٍ منهم، ويُبدَأُ بأحدٍ إن يَشرَكهنَّ فريضةً، فيُعطَى فريضتَه، فما بقيَ بعد ذلك فهو للولدِ بينهم، للذِّكر مثلُ حظِّ الأُنثيَين، فإن كانتا اثنتَينِ فما فوقَ ذلك من الإناث، كان لهنَّ الثَّلثان (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قال الحاكم: أقاويلُ زيد بن ثابت حُجَّةٌ عند كافَّة الصحابة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7955 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قال الحاكم: أقاويلُ زيد بن ثابت حُجَّةٌ عند كافَّة الصحابة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7955 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: جب کوئی مرد یا عورت فوت ہو جائے اور وہ ایک بیٹی چھوڑے تو اس کے لیے (کل مال کا) نصف ہوگا، اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ہوگا، اور اگر ان کے ساتھ کوئی مرد (بیٹا) بھی ہو تو پھر کسی کے لیے (مقررہ) حصہ نہیں ہوگا، بلکہ تقسیم کا آغاز اس سے کیا جائے گا جو وراثت میں ان کے ساتھ حصہ دار ہو، اسے اس کا حصہ دیا جائے گا اور جو باقی بچے گا وہ اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا، اور اگر بیٹیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں (اور کوئی بیٹا نہ ہو) تو ان کے لیے دو تہائی حصہ ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اقوال تمام صحابہ کے نزدیک حجت ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اقوال تمام صحابہ کے نزدیک حجت ہیں۔
فقد أخبرنا أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة: أنَّ ابنَ عباس أخذَ برِكَاب زيد بن ثابت، فقال له: تَنحَّ يا ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ فقال: إِنَّا هكذا نفعلُ بكُبَرائِنا وعُلمائِنا (2).
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کی رکاب تھام لی، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد! ہٹ جائیے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم اپنے بڑوں اور اپنے علماء کے ساتھ ایسا ہی (احترام کا) معاملہ کرتے ہیں۔“