أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا عوف بن أبي جَميلة، عن سليمان بن جابر الهَجَري، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "تَعلَّمُوا القرآن وعلِّمُوه الناسَ، وتَعلَّمُوا الفرائضَ وعلِّموه الناسَ، فإني امرُؤٌ مقبوضٌ، وإنَّ العلمَ سيُقبَضُ وتظهرُ الفِتنُ، حتى يَختلِفَ الاثنانِ في الفريضة، لا يَجِدانِ من يَقْضي بها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله عِلّة عن أبي بكر بن إسحاق عن بشر بن موسى عن هَوْذة بن خَليفة عن عوف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7950 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله عِلّة عن أبي بكر بن إسحاق عن بشر بن موسى عن هَوْذة بن خَليفة عن عوف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7950 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، اور فرائض (علمِ وراثت) سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ میں ایک ایسا شخص ہوں جسے دنیا سے اٹھا لیا جائے گا، اور علم بھی عنقریب قبض کر لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمی کسی فریضے کے متعلق اختلاف کریں گے مگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو ان کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، أخبرنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عوف، عن رجل، عن سليمان بن جابر، عن ابن مسعود، عن النبيِّ ﷺ قال: "تَعلَّموا الفرائضَ وعلِّموه الناس، فإنِّي امْرُؤٌ مقبوضٌ، وإنَّ العلم سيُقبَضُ حتى يختلفَ الاثنانِ في الفريضة، فلا يَجِدانِ أحدًا يَفصِلُ بينهما" (1). قال الحاكم: وإذا اختَلَفا، فالحكمُ للنَّضر بن شُمَيل.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم فرائض سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ میں ایک ایسا شخص ہوں جسے دنیا سے اٹھا لیا جائے گا، اور علم بھی عنقریب اٹھا لیا جائے گا یہاں تک کہ دو آدمی کسی فریضے کے بارے میں اختلاف کریں گے مگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو ان کے درمیان تصفیہ کر سکے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: جب راویوں میں اختلاف ہو تو نضر بن شمیل کا قول معتبر ہوگا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جب راویوں میں اختلاف ہو تو نضر بن شمیل کا قول معتبر ہوگا۔