کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دنیا میں بھلائی کرنے والے ہی آخرت میں بھلائی پانے والے ہوں گے
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بن محمد بن سَوَّار، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم الكوفي بمصر، حدثنا حِبَّان بن علي، عن سعد (2) بن طَرِيف، عن الأَصبَغ بن نُبَاتة، عن عليّ قال: قال لي رسول الله ﷺ: "يا عليُّ، اطلُبُوا المعروفَ من رُحَمَاء أُمّتي تَعيشُوا في أكنافِهم، ولا تَطلُبوا من القاسيةِ قلوبُهم، فإنَّ اللعنة تَنزِلُ عليهم. يا عليُّ، إنَّ الله تعالى خلَقَ المعروفَ وخلقَ له أهلًا، فحبَّبَه إليهم وحَبَّبَ إليهم فِعالَه، ووَجَّه إليهم طُلَّابه كما وجَّه الماءَ في الأرضِ الجَدْبة (1) لتَحْيا به ويَحْيا بها أهلُها. يا علي، إنَّ أهلَ المعروفِ في الدنيا هم أهلُ المعروف في الآخرة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے علی! بھلائی کو میری امت کے رحم دل لوگوں کے پاس تلاش کرو تو تم ان کے زیرِ سایہ (سکون سے) رہو گے، اور سخت دل لوگوں سے بھلائی طلب نہ کرو کیونکہ ان پر لعنت نازل ہوتی ہے۔ اے علی! اللہ تعالیٰ نے بھلائی کو پیدا کیا اور اس کے لیے کچھ لوگوں کو بھی مخصوص کیا، پھر بھلائی ان کے لیے محبوب بنا دی اور اس پر عمل کرنا بھی ان کے لیے پسندیدہ بنا دیا، اور اللہ بھلائی کے طالبوں کو ان کی طرف ایسے ہی بھیجتا ہے جیسے وہ خشک زمین کی طرف پانی روانہ کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے زمین اور اس کے رہنے والے زندہ ہو جائیں۔ اے علی! دنیا میں بھلائی کرنے والے ہی آخرت میں بھلائی پانے والے ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العَبْدي، حدثنا أحمد بن زياد بن مِهْران، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "أكثرُوا ذِكرَ هاذمِ اللَّذّات؛ الموتِ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7909 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7909 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا شُعْبة، عن الأعمش، عن شِمْر بن عطيّة، عن المغيرة بن سعد بن الأخرَم (1) [عن أبيه] (2) عن عبد الله بن مسعود، عن النبيِّ ﷺ: "لا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرغَبُوا في الدنيا" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7910 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7910 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم جائیدادیں اور کھیتیاں (بنانے کی حرص) نہ پالو ورنہ تم دنیا ہی کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔