المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
الْقُلُوبُ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ باب: تمام دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں (وہ جیسے چاہے پھیر دے)
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا بِشْر بن بكر، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعتُ بُسْرَ بن عبيد الله يقول: سمعتُ أبا إدريس الخَوْلاني يقول سمعت النَّوّاس بن سِمْعان الكِلابي يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ما مِن قلبٍ إلَّا بينَ إصبعَينِ من أصابع الرحمن، إن شاءَ أقامَه، وإن شاءَ أزاغَه". وكان رسولُ الله ﷺ يقول: "اللهمَّ يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّتْ قلوبَنا على ديِنك، والمِيزانُ بيدِ الرحمن يرفعُ أقوامًا ويَضعُ آخرينَ إلى يوم القيامة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7907 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی دل ایسا نہیں ہے جو رحمٰن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، وہ اگر چاہے تو اسے (ہدایت پر) قائم رکھے اور اگر چاہے تو اسے (گمراہی کی طرف) پھیر دے۔“ اور رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهمَّ يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ» ”اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ“، اور ترازو رحمٰن کے ہاتھ میں ہے، وہ قیامت تک کچھ قوموں کو بلند فرماتا ہے اور دوسروں کو پست کر دیتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پیچھے نمبر (1947) پر گزر چکا ہے۔