کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بدبختوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کی فقیری اور آخرت کا عذاب جمع ہو جائے
حدثني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمِي، حدثنا أبو أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك الدِّمشقي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي سعيد قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "اللهمَّ أَحْينِي مسكينًا، وتوفَّني مسكينًا، واحشُرني في زُمْرة المساكين، فإنَّ أشقَى الأشقياءِ مَن اجتَمَعَ عليه فقرُ الدنيا وعذابُ الآخرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7911 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7911 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللهمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَتَوَفَّنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ المَسَاكِينِ» ”اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مجھے مسکینی کی حالت میں موت عطا فرما اور میرا حشر بھی مسکینوں کی جماعت میں فرما“، (پھر آپ ﷺ نے فرمایا:) کیونکہ سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کا فقر اور آخرت کا عذاب دونوں جمع ہو جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبّاس بن الوليد بن مَزْيد البَيرُوتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عُتبة بن أبي حَكيم، عن عمرو بن جاريَة، عن أبي أُميّة الشَّعْباني، قال: سألتُ أبا ثعلبةَ عن هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [المائدة: 105]، فقال أبو ثعلبة: لقد سألتَ عنها خبيرًا، أنا سألت عنها رسولَ الله ﷺ قَبْلًا، فقال: يا أبا ثعلبةَ مُرُوا بالمعروف وتَناهَوْا عن المنكَر، فإذا رأيتَ شُحًّا مُطاعًا وهوى مُتَبَعًا، ودُنْيا مُؤثَرةً، ورأيتَ أمرًا لا بدَّ لك من طلبِه، فعليكَ نفسَك ودَعْهم وعَوَامَّهم، فإِنَّ وراءَكم أيامَ الصَّبر، صبرٌ فيهنَّ كقَبْضٍ على الجَمْر للعامل فيهنَّ أجرُ خمسينَ يعملُ مثلَ عملِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7912 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7912 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امیہ شعبانی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ ”اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، جب تم راہِ راست پر ہو تو جو گمراہ ہوا اس کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی“ [سورة المائدة: 105]، تو انہوں نے کہا: تم نے اس کے بارے میں ایک باخبر شخص سے پوچھا ہے، میں نے اس بارے میں خود رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے ابو ثعلبہ! تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، لیکن جب تم دیکھو کہ بخل (لالچ) کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہشات نفسانی پر عمل ہو رہا ہے، دنیا کو (آخرت پر) ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر مغرور ہے، تو اس وقت تم اپنی ذات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کو چھوڑ دینا، کیونکہ تمہارے پیچھے صبر کے دن آنے والے ہیں، ان دنوں میں (دین پر) قائم رہنا ایسا ہی ہوگا جیسے مٹھی میں دہکتا ہوا انگارہ پکڑنا، ان ایام میں نیک عمل کرنے والے کے لیے ان پچاس لوگوں جتنا اجر ہوگا جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي، حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي، حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا قَتَادة، عن مُطرِّف بن عبد الله، عن أبيه قال: انَتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو يقرأُ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ قال: "يقول ابن آدم: مالي مالي، وهل لك مِن مالِك إِلَّا ما لَبِستَ فأبلَيتَ، أو أكلت فأفنَيتَ، أو تصدّقتَ فأمضَيتَ؟! " (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7913 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7913 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ یہ تلاوت فرما رہے تھے: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ﴾ [سورة التكاثر: 1-2] آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ (اے انسان!) تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ دے کر (اپنے آگے) بھیج دیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا حَرِيز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيْسرة، عن جُبير بن نُفَير، عن بِشر (1) بن جَحَّاش القرشي قال: إنَّ رسولَ الله ﷺ بَزَقَ في كفِّه، ثم وضع عليها إصبَعَه، ثم قال: "يقولُ الله ﵎: يا ابن آدم، تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثل هذا، حتى إذا سوَّيتُك وَعَدَلتُك، مشيتَ وجَمَعتَ ومَنَعَتَ، حتى إذا بَلَغَتِ التَّراقيَ قلتَ: أتصدَّقُ، وأنَّى أوَانُ الصَّدقة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7914 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7914 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بشر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اس پر اپنی انگلی رکھی اور فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ یہاں تک کہ جب میں نے تجھے درست اور اعتدال پر مبنی بنا دیا تو تو (زمین پر) اکڑ کر چلا، مال جمع کیا اور (حقوق کی ادائیگی سے) ہاتھ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب (جان) حلق تک پہنچ گئی تو تو کہنے لگا: اب میں صدقہ کرتا ہوں، حالانکہ اب صدقے کا وقت کہاں رہا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔