کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے بچا لیتا ہے
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا محمد بن جَهْضَم، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن قَتَادةَ بن النُّعمان قال: قال رسولُ الله ﷺ: "إذا أَحَبَّ الله عبدًا، حَمَاهُ الدنيا كما يَحمِي أحدُكم مريضَه الماءَ (2) " (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7857 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا (کی لذتوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال: "ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو مبارک پر نمایاں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کاش آپ اس سے زیادہ نرم بستر اختیار فرما لیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا لینا دینا، اور دنیا کو مجھ سے کیا سروکار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے دن میں سفر کر رہا ہو اور کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کے لیے رکے، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب (2) حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن عمرو بن مُرَّة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أن النبيَّ ﷺ قال: ما لي وللدُّنيا، مَثَلي ومَثَلُ الدنيا كَمَثَل راكبٍ قالَ في [ظلِّ] (3) شجرةِ في يومٍ صائفٍ، فراحَ وتَرَكَها (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق، میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جس نے گرمی کے دن میں کسی درخت کے سائے تلے قیلولہ (آرام) کیا، پھر وہاں سے چل دیا اور اسے وہیں چھوڑ دیا۔“
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ وأبو الحسن علي بن بُنْدار الزاهد، قالا: أخبرنا أبو العبّاس محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا إبراهيم بن عمرو (5) السَّكسكي، حدثنا أبي، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن طلبَ ما عندَ الله كانت السماءُ ظِلالَه، والأرضُ فِراشَه، لم يَهتَمَّ بشيءٍ من أمر الدنيا؛ فهو لا يَزرَعُ الزرعَ، وهو يأكلُ الخبزَ، وهو لا يَغرِسُ الشجرَ، ويأكلُ الثمار، توكُّلًا على الله تعالى، وطلبَ مَرْضاته، فضَمَّنَ الله السماواتِ السبعَ والأرضينَ السبعَ رِزقَه، فهم يَتعَبونَ فيه، ويأتُون به حلالًا، ويَستَوفي هو رزقَه بغير حسابٍ عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد للشاميين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7860 - بل منكر أو موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد للشاميين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7860 - بل منكر أو موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس ثواب کا طلبگار ہو جو اللہ کے پاس ہے تو آسمان اس کا سایہ اور زمین اس کا بستر بن جاتی ہے، وہ دنیا کے کسی معاملے کی فکر نہیں کرتا؛ وہ کھیتی نہیں اگاتا لیکن روٹی کھاتا ہے، وہ درخت نہیں لگاتا لیکن پھل کھاتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی رضا کی طلب کی بدولت ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو اس کے رزق کا ضامن بنا دیتا ہے، پس وہ لوگ اس کے رزق کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور اسے حلال طریقے سے اس تک پہنچاتے ہیں، اور وہ اپنا رزق اللہ کے ہاں بغیر کسی حساب کے پورا پورا پاتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔“
شامی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
شامی راویوں کے حوالے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔