حدیث نمبر: 8055
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: دخلَ عمرُ بن الخطّاب على النبيِّ ﷺ وهو على حَصيرٍ قد أثَّر في جنبِه، فقال: يا رسولَ الله، لو اتَّخذتَ فِراشًا أوثَرَ من هذا، فقال: "ما لي وللدُّنيا، وما للدنيا وما لي، والذي نفسي بيدِه ما مَثَلي ومَثَلُ الدنيا إلَّا كراكبٍ سارَ في يومٍ صائفٍ، فاستظلَّ تحت شجرةٍ ساعةً من نهار، ثم راحَ وتَرَكَها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عبد الله بن مسعود:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7858 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو مبارک پر نمایاں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کاش آپ اس سے زیادہ نرم بستر اختیار فرما لیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دنیا سے کیا لینا دینا، اور دنیا کو مجھ سے کیا سروکار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے دن میں سفر کر رہا ہو اور کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کے لیے رکے، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8055
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8055] [ترقيم الشركة 7957] [ترقيم العلميه 7858]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2744)، وابن حبان (6352) من طرق عن ثابت بن يزيد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (4/2744) اور ابن حبان (6352) نے ثابت بن یزید سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "أوثر" من الوَثِير، أي: وَطِيء لين. قاله ابن الأثير.
نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کا فرمان "أوثر"، (عربی لفظ) "الوثیر" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے: نرم و گداز بستر۔ یہ بات (لغت کے امام) ابن اثیر نے کہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8055 سے ماخوذ ہے۔