المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والی روایات
حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ باب: دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے
حدیث نمبر: 8058
أخبرنا أحمد (2) بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُرَيح بن عُبيد: أَنَّ أبا مالك الأشعري لما حَضَرتَه الوفاةُ قال: يا معشرَ الأشعريِّين، ليبلِّغِ الشاهدُ منكم الغائبَ، أنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "حُلوة الدنيا مُرَّة الآخرة، ومُرَّة الدنيا حُلْوةُ الآخرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7861 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! تم میں سے جو موجود ہے وہ یہ بات غائب لوگوں تک پہنچا دے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے، اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" بن گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد روايته عن أبي مالك الأشعري منقطعة مرسلة فيما قال أبو حاتم الرازي أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، وصفوان بن عمرو: هو السكسكي.
درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، فنی نکتہ / علّت: کیونکہ شریح بن عبید کی ابو مالک اشعری سے روایت "منقطع و مرسل" ہے جیسا کہ ابو حاتم رازی نے فرمایا ہے۔ (سند میں موجود) ابو المغیرہ سے مراد "عبدالقدوس بن حجاج الخولانی" ہیں اور صفوان بن عمرو سے مراد "السکسکی" ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 37/ (22899).
حوالہ / مصدر: اور یہ حدیث "مسند احمد" (37/22899) میں موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" بن گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد روايته عن أبي مالك الأشعري منقطعة مرسلة فيما قال أبو حاتم الرازي أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، وصفوان بن عمرو: هو السكسكي.
درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، فنی نکتہ / علّت: کیونکہ شریح بن عبید کی ابو مالک اشعری سے روایت "منقطع و مرسل" ہے جیسا کہ ابو حاتم رازی نے فرمایا ہے۔ (سند میں موجود) ابو المغیرہ سے مراد "عبدالقدوس بن حجاج الخولانی" ہیں اور صفوان بن عمرو سے مراد "السکسکی" ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 37/ (22899).
حوالہ / مصدر: اور یہ حدیث "مسند احمد" (37/22899) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8058 سے ماخوذ ہے۔