کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
حدثنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هِلال البُوزَنْجِرْدي، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحُسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن قال: أنا بريءٌ من الإسلام، فإن كان كاذبًا فهو كما قالَ، وإن كان صادقًا فلن يَرجِعَ إلى الإسلام سالمًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7818 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7818 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا کہ میں اسلام سے بری (بیزار) ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ (اپنے دعوے میں) سچا ہے تو وہ کبھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہیں لوٹ سکے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ: "والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال: "أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے چوک میں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے کچھ غلام اور نوکر آپ سے آ ملے ہیں، ان کا مقصد دین نہیں بلکہ صرف ہمارے مویشیوں اور کھیتیوں سے بھاگنا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ کی قسم، تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا“، پھر فرمایا: ”وہ میں ہوں گا یا وہ جو جوتا گانٹھ رہا ہے“، سیدنا علی فرماتے ہیں کہ اس وقت میں رسول اللہ ﷺ کا جوتا گانٹھ رہا تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر (1)، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري، حدثني أبي، عن خارجة بن زيد، عن زيد قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ مع أصحابه يُحدِّثُهم إذ قام فدخلَ فقام زيدٌ فجلَسَ في مَجلِس النبيِّ ﷺ وجعل يُحدِّثهم عن النبيِّ ﷺ، إذ مُرَّ بلحمِ هديةٍ إلى رسول الله ﷺ، فقال القوم لزيدٍ - وكان أحدَثَهم سِنًّا -: يا أبا سعيد، لو قمتَ إلى النبيِّ ﷺ فأقرأتَه منَّا السلامَ، وتقول له: يقولُ لك أصحابُك: إنْ رأيتَ أن تَبعَثَ إلينا من هذا اللَّحم، فقال: "ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فجاء زيدٌ فقال: قد بلَّغتُ النبيَّ ﷺ الذي أرسلتموني به، فقال: "ارجِعْ إليهم فقد أكلُوا لحمًا بعدَك" فقال القوم: ما أكلنا لحمًا، وإنَّ هذا لأمرٍ حَدَثَ، فانطلِقوا بنا إلى رسول الله ﷺ نسألُه ما هذا، فجاؤوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: يا رسولَ الله، أرسَلْنا إليك في اللَّحم الذي جاءك، فزَعَمَ زيدٌ أنهم قد أكلوا لحمًا! فوالله ما أكلنا لحمًا، فقال رسولُ الله ﷺ: "كأنّي أنظرُ إلى خُضرةِ لحم زيدٍ في أسنانِكم" فقالوا: أيْ رسولَ الله، فاستَغفِرْ لنا، قال: فاستغفرَ لهم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7820 - إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ اٹھ کر (گھر) تشریف لے گئے۔ زید (جو سب سے کم عمر تھے) آپ ﷺ کی جگہ بیٹھ گئے اور صحابہ کو نبی ﷺ کی باتیں سنانے لگے۔ اسی دوران رسول اللہ ﷺ کے لیے گوشت کا ہدیہ آیا۔ لوگوں نے زید سے کہا: اے ابوسعید! آپ نبی ﷺ کے پاس جائیں، ہمارا سلام کہیں اور عرض کریں کہ آپ کے صحابہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس گوشت میں سے کچھ ہمیں بھی بھیج دیں؟ (زید گئے تو) آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ، وہ تمہارے بعد گوشت کھا چکے ہیں“۔ زید واپس آئے اور بتایا کہ میں نے آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ گوشت کھا چکے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے تو کوئی گوشت نہیں کھایا، یہ تو کوئی خاص بات معلوم ہوتی ہے، چلو رسول اللہ ﷺ سے خود پوچھتے ہیں۔ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گوشت کے لیے کہلوایا تھا تو زید کا دعویٰ ہے کہ ہم گوشت کھا چکے ہیں، حالانکہ اللہ کی قسم! ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں تمہارے دانتوں میں زید کے گوشت کی سبزی (اثر) دیکھ رہا ہوں“ (یعنی تم نے اس کی پیٹھ پیچھے بات کر کے اس کی غیبت کی ہے)۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے استغفار فرمائیں، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن عبد الأعلى، عن جدَّته، عن أبيها سُوَيد بن حَنْظلة، قال: خرَجْنا نريدُ رسولَ الله ﷺ ومعنا وائل بن حُجْر، فأخذه عدوٌّ له، فتحرَّجَ القومُ أن يَحلِفوا وحلفتُ أنه أخي، فخُلِّي سبيلُه، فأتينا رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه أنَّ القومَ تحرَّجوا وحلفتُ أنا أنَّه أخي، فقال: "صدقتَ، المُسلِمُ أخو المُسلِم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راستے میں ان کے ایک دشمن نے انہیں پکڑ لیا۔ لوگوں نے (انہیں چھڑانے کے لیے) قسم کھانے میں تامل کیا، لیکن میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے، چنانچہ دشمن نے انہیں چھوڑ دیا۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ باقی لوگ تامل کر رہے تھے جبکہ میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے (اس لیے تمہاری یہ قسم جھوٹی نہیں تھی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔