المستدرك على الصحيحين
كتاب الأيمان والنذور— قسم اور نذر کے متعلق روایات
مَنْ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ باب: جس نے کہا کہ "میں اسلام سے بری ہوں"، وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبْعي بن حِراش، حدثنا عليٌّ في رَحَبةِ الكوفة (2) قال: لمّا افتَتَحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ أتاه ناسٌ من قريش، فقالوا: إنه قد لَحِقَ بك ناسٌ من مَوالِينا وأرقّائِنا ليس لهم رغبةٌ في الدِّين إلَّا فِرارًا من مواشينا وزَرْعِنا، فقال رسول الله ﷺ: "والله يا معشرَ قريش، لَتُقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا فيضرِبُ أعناقَكم على الدِّين" ثم قال: "أنا أو خاصِفُ النَّعْل"، قال عليٌّ: وأنا أَخصِفُ نَعْلَ رسولِ الله ﷺ. ثم قال عليٌّ: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "مَن كَذَبَ عليَّ يَلِجِ النَّارَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7819 - على شرط مسلمسیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے چوک میں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے کچھ غلام اور نوکر آپ سے آ ملے ہیں، ان کا مقصد دین نہیں بلکہ صرف ہمارے مویشیوں اور کھیتیوں سے بھاگنا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ کی قسم، تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے، ورنہ میں تم پر ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا“، پھر فرمایا: ”وہ میں ہوں گا یا وہ جو جوتا گانٹھ رہا ہے“، سیدنا علی فرماتے ہیں کہ اس وقت میں رسول اللہ ﷺ کا جوتا گانٹھ رہا تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "بن رحبہ الکوفی" ہو گیا ہے، اور نسخہ (م) میں بھی اسی طرح ہے مگر وہاں "بن" کا لفظ بھی حذف ہے۔
(3) إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرَّد به شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وقد سلف الكلام عليه برقم (2647).
درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو بیان کرنے میں شریک (بن عبد اللہ النخعی) منفرد ہیں، اور ان کے بارے میں کلام پہلے حدیث نمبر (2647) کے تحت گزر چکا ہے۔