حدیث نمبر: 8011
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا عُبَيس بن ميمون، حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن حَلَفَ على يمين فهو كما حَلَفَ، إن قال: هو يهوديٌّ، فهو يهوديٌّ، وإن قال: هو نَصرانيٌّ، فهو نَصرانيُّ، وإن قال: هو بَريء من الإسلام، فهو بَريءٌ من الإسلام، ومن ادَّعى دُعاءَ الجاهلية فإنه من جُثَى جهنَّم" قالوا: يا رسول الله، وإن صام وصلَّى؟ قال: "وإن صام وصلَّى" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7817 - الخبر منكر
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی بات پر (اس طرح کی) قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا؛ اگر اس نے کہا کہ وہ یہودی ہے (اگر ایسا ہوا) تو وہ یہودی ہے، اگر اس نے کہا کہ وہ نصرانی ہے تو وہ نصرانی ہے، اور اگر اس نے کہا کہ وہ اسلام سے بیزار ہے تو وہ اسلام سے بیزار ہی ہے، اور جس نے جاہلیت کی پکار ماری (عصبیت کو پکارا) وہ جہنم کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزہ رکھتا اور نماز پڑھتا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا اور نماز پڑھتا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8011
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل عُبيس بن ميمون: وهو التيمي الخزاز، فهو متفق على ضعفه» [ترقيم الرساله 8011] [ترقيم الشركة 7916] [ترقيم العلميه 7817]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عُبيس بن ميمون: وهو التيمي الخزاز، فهو متفق على ضعفه.
درجۂ حدیث: اس کی سند عُبیس بن میمون (التیمی الخزاز) کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے، کیونکہ ان کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔
وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: الخبر منكر.
درجۂ حدیث: امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے اسی راوی کی وجہ سے معلول (علت والی) قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ خبر "منکر" ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (6006) - وعنه ابن حبان في "المجروحين" 2/ 186 - 187 - عن الحسن بن عمر بن شقيق عن عبيس بن ميمون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ (6006) نے روایت کیا ہے، اور ان کے واسطے سے ابن حبان نے "المجروحین" (2/ 186-187) میں حسن بن عمر بن شقیق کی سند سے عُبیس بن میمون کے طریق پر اسے ذکر کیا ہے۔
والنهي عن دعوى الجاهلية صحَّ من حديث ابن مسعود عند البخاري (1294) ومسلم (103). قوله: "جُثى" بضم الجيم مقصورًا، أي: جماعتهم، جمع جثوة، بالحركات الثلاث: وهي الحجارة المجموعة، وروي من "جُثِيّ" بتشديد الياء وضم الجيم جمع جاثٍ، وكسر الجيم جائز. قاله على القاري في "شرح المشكاة".
اہم نکتہ: جاہلیت کے نعروں اور دعوؤں سے ممانعت صحیح بخاری (1294) اور صحیح مسلم (103) میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
نوٹ / توضیح: لفظ "جُثى" (جیم کے پیش کے ساتھ) 'جثوہ' کی جمع ہے، جس کا معنی پتھروں کا ڈھیر یا گروہ ہے۔ ایک روایت میں یہ "جُثِيّ" (یاء کی تشدید کے ساتھ) بھی آیا ہے جو 'جاثی' (گھٹنوں کے بل گرنے والے) کی جمع ہے۔ ملا علی قاری نے "شرح مشکاۃ" میں اس کی یہی وضاحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8011 سے ماخوذ ہے۔