کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اس فرشتے (مرغ) کی تسبیح جس کے پاؤں زمین پر اور گردن عرش کے نیچے ہے
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا عُبيد الله (4) ابن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن معاوية بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "إنَّ الله أَذِنَ لي أن أُحدِّثَ عن دِيكٍ رِجْلاه في الأرض، وعنقُه مَثْنيّةٌ تحتَ العَرْش، وهو يقول: سبحانَك، ما أعظمَ ربَّنا" قال: "فيردُّ عليه: ما يَعلمُ ذلك من حَلَفَ بي كاذبًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7813 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں تمہیں ایک (عظیم الجثہ) مرغ کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین میں ہیں اور گردن عرش کے نیچے خمیدہ ہے، وہ (تسبیح کرتے ہوئے) کہتا ہے: «سُبْحَانَكَ، مَا أَعْظَمَ رَبَّنَا!» اے اللہ! تو پاک ہے، ہمارا رب کتنا عظیم ہے! تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے: وہ شخص اس بات (میری عظمت) کو نہیں جانتا جو میری جھوٹی قسم کھاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8007
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8007] [ترقيم الشركة 7912] [ترقيم العلميه 7813]
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان العَسكَري (2)، حدثنا أبو خالد الأحمر، حدثنا الحسن بن عبيد الله النَّخَعي، عن سعد بن عُبيدة قال: سمع ابن عمر رجلًا يَحلِفُ بالكعبة، فقال: لا تَحلِفْ بالكعبة، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن حَلَفَ بغيرِ الله فقد كَفَر - أو (3) أشرَكَ - " (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7814 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: کعبہ کی قسم نہ کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر کیا - یا (فرمایا) شرک کیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8008
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8008] [ترقيم الشركة 7913] [ترقيم العلميه 7814]
أخبرنا علي أبو (1) الحسين السَّبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغفاري، حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا (2) المسعودي، عن مَعْبَد بن خالد، عن عبد الله بن يَسَار، عن قُتَيلة بنت صَيْفي، امرأة من جُهَينة: أَنَّ حَبْرًا جاء إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنكم تُشرِكون، تقولونَ: ما شاءَ اللهُ وشِئتَ، وتقولون والكعبةِ، فقال رسولُ الله ﷺ: "قولوا: ما شاءَ اللهُ ثمَّ شِئتَ، وقولوا: ورَبِّ الكعبةِ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7815 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قتیلہ بنت صیفی رضی اللہ عنہا (جہینہ قبیلے کی خاتون) سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم (حبر) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: تم لوگ بھی شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: «مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ» ”جو اللہ چاہے اور جو آپ (ﷺ) چاہیں“ اور تم ”کعبہ کی قسم“ کھاتے ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: «مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ» ”تم اس طرح کہا کرو: جو اللہ چاہے، پھر جو آپ چاہیں، اور قسم کھانی ہو تو کہو: کعبہ کے رب کی قسم۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8009
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والمسعودي» [ترقيم الرساله 8009] [ترقيم الشركة 7914] [ترقيم العلميه 7815]
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد ابن شاكر، حدثنا عبد الله بن داود حدثنا الوليد بن ثَعلَبة الطائي، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ: "قال: "ليس مِنَّا من حَلَفَ بالأمانة، وليس مِنّا من خَبَّبَ زوجةَ امرئٍ ولا مملوكَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7816 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جس نے ’امانت‘ کی قسم کھائی، اور وہ بھی ہم میں سے نہیں جس نے کسی کی بیوی یا اس کے غلام کو (اپنے مالک یا شوہر کے خلاف) بہکایا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبد الله بن داود: هو الخُريبي» [ترقيم الرساله 8010] [ترقيم الشركة 7915] [ترقيم العلميه 7816]