حدیث نمبر: 7950
ما حدَّثَناه أبو العباس السَّيَّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة قال: سمعتُ أَبي بريدة (1) يقول: كنتُ في المسجد وأبو موسى الأشعري يقرأُ، فخرجَ رسولُ الله ﷺ فقال: "مَن هذا؟ " فقلتُ: أنا بُرَيدةُ، جُعِلتُ لك الفِداءَ يا نبيَّ الله، قال: "لقد أُعطِيَ هذا من مَزاميرِ آلِ داود" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة. ومن ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7757 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان ہو جاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کو آلِ داؤد کی خوش الحانی (مزامیر) میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7950
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 7950] [ترقيم الشركة 7856] [ترقيم العلميه 7757]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: بردة.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "بردہ" ہو گیا ہے (جبکہ درست نام بریدہ ہے)۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (22952) و (22969) و (23033)، ومسلم (793) (235)، والترمذي (3475)، والنسائي (8004)، وابن حبان (892) من طريق مالك بن مغول، عن عبد الله بن بريدة بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 38/ (22952، 22969، 23033)، مسلم (793) (235)، ترمذی (3475)، نسائی (8004) اور ابن حبان (892) نے مالک بن مغول عن عبد اللہ بن بریدہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7950 سے ماخوذ ہے۔