المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
إِبَاحَةُ قَوْلِ النَّاسِ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَمَا يُشْبِهُهُ . باب: لوگوں کے اس قول "میں آپ پر فدا ہوں" اور اس جیسے دیگر کلمات کہنے کا جواز
ما حدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن هِلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كُنَّا نحن حولَ رسول الله ﷺ جلوسًا، إذ ذَكَر الفتنةَ - أو ذُكرَتْ عندَه - فقال رسول الله ﷺ: "إذا رأيتَ الناسَ قد مَرِجَتْ عهودُهم، وخفَّتْ أماناتُهم، وكانوا هكذا" وشبَّك بين أناملِه، فقمتُ إليه، فقلتُ: كيف أفعلُ يا رسولَ الله، جعلني الله فِدَاك؟ قال: "الزَمْ بيتَك، واملِكْ عليك لسانَك، وخُذْ ما تَعرِفُ، ودَعْ ما تُنكِرُ، وعليك بخاصَّة أمر نفسك، ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے کہ فتنوں کا ذکر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد و پیمان بگڑ گئے ہیں، ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ ایسے ہو گئے ہیں“ (اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا)۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کیا کروں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے؟ فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑو، اپنی زبان پر قابو رکھو، جو معروف ہو اسے لے لو، جو منکر ہو اسے چھوڑ دو، اپنے خاص معاملے کی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ 6987)، وأبو داود (4343)، والنسائي (9962) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6987)، ابو داؤد (4343) اور نسائی (9962) نے یونس بن ابی اسحاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق يونس بن أبي إسحاق برقم (8813)، وسلف من طريق عمارة بن حزم عن عبد الله بن عمرو برقم (2704).
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے یونس بن ابی اسحاق کے طریق سے رقم (8813) پر آئے گی، اور پہلے عمارہ بن حزم عن عبد اللہ بن عمرو کی سند سے رقم (2704) پر گزر چکی ہے۔