کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے غرغرہ سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے
حَدَّثَنَا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى ابن شَيْخ بن عَمِيرة الأَسَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح بن مسلم العِجْلي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مكحول، عن عمر بن نُعَيم، عن أسامة بن سلمان، أنَّ أبا ذَرٍّ الغِفاري حدَّثهم، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "إِنَّ الله يَغْفِرُ لعبدِه ما لم يَقَعِ الحِجابُ"، قيل: يا رسولَ الله، وما الحِجابُ؟ قال: "أن تموتَ النفسُ مشركةً" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7660 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو معاف فرما دیتا ہے جب تک کہ ”حجاب“ واقع نہ ہو جائے“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حجاب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ انسان اس حال میں مرے کہ وہ مشرک ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حَدَّثَنَا زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني قال: سمعتُ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ [بيوم] (1) قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخر من أصحابِ رسول الله ﷺ، قال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلت: نعم، قال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بنصف يومٍ، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَه؟ قال: قلت: نعم، فقال: أشهَدُ لسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يموتَ بضَحْوة، قَبِلَ اللهُ منه". قال: فحدَّثتُ بذلك رجلًا آخرَ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فقال: أنت سمعتَ ذلك؟ قلتُ: نعم، قال: فأشهَدُ لسمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن تَابَ إلى الله قبلَ أن يُغرغِرَ، قَبِلَ اللهُ منه" (2). هكذا رواه عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي عن زيد بن أسلم:
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مرنے سے ایک دن پہلے بھی اللہ کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ایک دوسرے صحابی سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مرنے سے آدھا دن پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ایک اور صحابی سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مرنے سے ایک پہر (ضحوہ) پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ایک اور صحابی سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے غرغرہ (موت کی ہچکی) شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔“
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حمزة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، سمعَ رسولَ الله ﷺ يقول: "والذي نفسي بيده، ما من إنسانٍ يتوبُ قبل أن يموتَ بيومٍ إِلَّا قَبِلَ اللهُ توبتَه" قال: فأخبرتُ بذلك رجلًا من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فذكر مثلَ حديث هشام سواء (1).
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جو انسان بھی مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لے گا، اللہ اس کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا“، راوی کہتے ہیں: پھر میں نے نبی کریم ﷺ کے ایک (دوسرے) صحابی کو یہ بات بتائی، تو انہوں نے بھی ہشام کی حدیث کے مثل مکمل ذکر فرمایا۔
فحدَّثَناه أبو جعفر محمد بن خُزَيمة بن قُتيبة الكِسِّي من أصل كتابه (2)، حَدَّثَنَا فتح بن عمرو الكِسِّي، حَدَّثَنَا المُؤمَّل بن إسماعيل، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوري، قال: كتبتُ إلى عبد الرحمن بن البَيلَماني أسأله عن حديث يُحدِّث به عن أبيه، فكتب إليَّ: أنَّ أباه حدَّثه أنه جلس إلى نَفَرٍ من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، فقال أحدُهم: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن تابَ إلى الله قبلَ موتِه بسنةٍ تابَ اللهُ عليه"، فقال له آخرُ: أنت سمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من تابَ إلى اللهِ ﷿ قبلَ موتِه بيومٍ تابَ الله عليه"، قال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. قال آخرُ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن تَابَ إلى الله ﷿ قبل موتِه بساعةٍ تابَ الله عليه"، فقال آخرُ: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: وأنا قد سمعتُه. فقال آخرُ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن تابَ إلى الله قبلَ الغَرغرةِ تابَ اللهُ عليه" (3). سفيان بن سعيد وإن كان أحفظَ من الدَّراوَردي وهشام بن سعد، فإنه لم يذكر سماعَه في هذا الحديث من ابن البَيلَماني ولا زيدِ بن أسلم، إنما ذكره إجازةً ومكاتبةً، فالقولُ فيه قولُ من قال: عن زيد بن أسلم عن ابن البيلماني عن رجل من أصحاب النَّبِيِّ ﷺ، وقد شَفَى عبدُ الله بن نافع المدني فبيَّن في روايته عن هشام بن سعد أنَّ الصحابيَّ عبدُ الله بن عمرو بن العاص ﵄. وبصحَّة ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7663 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبدالرحمن بن بیلمانی کو خط لکھ کر ان کے والد سے مروی ایک حدیث کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواباً لکھا: ان کے والد نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت کی مجلس میں بیٹھے تھے، تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے اللہ کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، اس پر ایک دوسرے صاحب نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک دن پہلے اللہ عزوجل کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، دوسرے نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنی موت سے ایک گھنٹہ پہلے اللہ عزوجل کے حضور توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“، دوسرے نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی یہ سنا ہے۔ پھر ایک اور صاحب نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے (موت کی ہچکی اور) غرغرہ شروع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا“۔
سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں، لیکن انہوں نے اس حدیث میں ابن بیلمانی یا زید بن اسلم سے اپنے براہِ راست سماع کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے بطورِ اجازہ اور خط و کتابت ذکر کیا ہے، لہٰذا اس معاملے میں ان لوگوں کی بات زیادہ معتبر ہوگی جنہوں نے اسے زید بن اسلم عن ابن بیلمانی عن رجل من اصحاب النبی ﷺ کی سند سے روایت کیا، اور عبداللہ بن نافع مدنی نے ہشام بن سعد سے اپنی روایت میں اس صحابی کا نام واضح کر دیا ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔
سفیان بن سعید اگرچہ دراوردی اور ہشام بن سعد سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں، لیکن انہوں نے اس حدیث میں ابن بیلمانی یا زید بن اسلم سے اپنے براہِ راست سماع کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے بطورِ اجازہ اور خط و کتابت ذکر کیا ہے، لہٰذا اس معاملے میں ان لوگوں کی بات زیادہ معتبر ہوگی جنہوں نے اسے زید بن اسلم عن ابن بیلمانی عن رجل من اصحاب النبی ﷺ کی سند سے روایت کیا، اور عبداللہ بن نافع مدنی نے ہشام بن سعد سے اپنی روایت میں اس صحابی کا نام واضح کر دیا ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ہیں۔
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا عُمير بن مِرْداس، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع حَدَّثَنَا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن تابَ قبلَ موتِه بعامٍ تِيبَ عليه"، حتَّى قال: "بشَهر"، حتَّى قال: "بجُمعة" حتَّى قال: "بيوم"، حتَّى قال: "بساعة"، حتَّى قال: "بفُوَاق". فقلتُ: سبحان الله، أوَلم يَقُلِ اللهُ ﷿: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [النساء: 18]؟ فقال عبدُ الله: إنما أُحدِّثك بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ماہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک ہفتہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک دن پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک گھنٹہ پہلے“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی کے دو بار دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے (یعنی ایک مختصر لمحے) کے برابر پہلے (توبہ کر لی تو قبول ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: سبحان اللہ! کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [سورة النساء: 18] ”اور ان لوگوں کے لیے توبہ (کی قبولیت) نہیں ہے جو برائیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی“؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی بیان کر رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔