حدیث نمبر: 7857
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا عُمير بن مِرْداس، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع حَدَّثَنَا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن تابَ قبلَ موتِه بعامٍ تِيبَ عليه"، حتَّى قال: "بشَهر"، حتَّى قال: "بجُمعة" حتَّى قال: "بيوم"، حتَّى قال: "بساعة"، حتَّى قال: "بفُوَاق". فقلتُ: سبحان الله، أوَلم يَقُلِ اللهُ ﷿: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [النساء: 18]؟ فقال عبدُ الله: إنما أُحدِّثك بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ماہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک ہفتہ پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک دن پہلے“، یہاں تک کہ فرمایا: ”ایک گھنٹہ پہلے“، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی کے دو بار دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے (یعنی ایک مختصر لمحے) کے برابر پہلے (توبہ کر لی تو قبول ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: سبحان اللہ! کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ﴾ [سورة النساء: 18] ”اور ان لوگوں کے لیے توبہ (کی قبولیت) نہیں ہے جو برائیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی“؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی بیان کر رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7857
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف سبق الكلام عليه قريبًا برقم (7854)» [ترقيم الرساله 7857] [ترقيم الشركة 7763] [ترقيم العلميه 7664]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف سبق الكلام عليه قريبًا برقم (7854). وقد انفرد عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد بتسمية صحابيه عبد الله بن عمرو، فجميع من رواه عن هشام بن سعد، وكذلك من تابع هشامًا عن زيد بن أسلم أبهموا صحابيّه كما سبق تخريجه في الأحاديث الثلاثة السابقة.
درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے، اس پر کلام نمبر 7854 کے تحت گزر چکا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے روایت کرتے ہوئے صحابی کا نام "عبد اللہ بن عمرو" بتایا ہے، جبکہ ہشام سے روایت کرنے والے دیگر تمام راویوں اور ان کے متابعین نے زید بن اسلم کے واسطے سے صحابی کا نام مبہم (نامعلوم) رکھا ہے، جیسا کہ پچھلی تین احادیث میں گزرا۔
وكذلك خالفهم في متنه فجعله عن صحابي واحد، وأولئك جعلوه عن عدة صحابة.
فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن نافع نے متن میں بھی دیگر راویوں کی مخالفت کی ہے؛ انہوں نے اسے صرف ایک صحابی سے روایت کیا ہے، جبکہ دیگر راوی اسے متعدد صحابہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
وأخرج أحمد (11/ 6920) من طريق رجل من بني الحارث قال: سمعت رجلًا منا يقال له: أيوب، قال: سمعت عبد الله بن عمرو رفعه: "من تاب قبل موته عامًا تِيب عليه، ومن تاب قبل موته بشهر تِيب عليه"، حتَّى قال: "يومًا"، حتَّى قال: "ساعة"، حتَّى قال: "فُواقًا". وسنده ضعيف لإبهام الرجل الحارثي وجهالة شيخه أيوب.
حوالہ / مصدر: امام احمد (11/ 6920) نے عبد اللہ بن عمروؓ سے مرفوعاً یہ روایت نقل کی ہے کہ: "جو موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ قبول ہوگی، جو ایک ماہ پہلے کرے... یہاں تک کہ ایک گھڑی اور ایک فُواق (اونٹنی دوہنے کا درمیانی وقفہ) کا ذکر فرمایا"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں حارثی شخص "مبہم" ہے اور اس کا شیخ ایوب "مجہول" (نامعلوم) ہے۔
قوله: "فُواق" بضم الفاء وتفتح: هو ما بين الحَلْبتين من الراحة، لأنّها تُحلَب ثم تُراح حتَّى تدرَّ، ثم تُحلَب. قاله ابن الأثير في "النهاية".
نوٹ / توضیح: لفظ "فُواق" (ف کے پیش یا زبر کے ساتھ) سے مراد اونٹنی کے دو دفعہ دودھ نکالنے کے درمیان کا تھوڑا سا وقفہ ہے، جس میں اونٹنی کو آرام دیا جاتا ہے تاکہ دودھ دوبارہ تھنوں میں اتر آئے۔ یہ وضاحت علامہ ابن الاثیر نے "النھایۃ" میں فرمائی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7857 سے ماخوذ ہے۔