کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ جس بندے کے دل میں گناہ پر ندامت دیکھتا ہے، اسے معاف فرما دیتا ہے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي الدُّنيا القرشي، حدثني الحسن بن الصَّبّاح، حَدَّثَنَا محمد بن سليمان، حَدَّثَنَا هشام بن زياد، عن أبي الزِّناد، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "ما عَلِمَ اللهُ من عبدٍ نَدَامَةً على ذَنْبٍ، إِلَّا غَفَرَ له قبل أن يَستغفِرَه منه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7646 - بل هشام بن زياد متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7646 - بل هشام بن زياد متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کے دل میں اس کے گناہ پر جس قدر ندامت دیکھتا ہے، اسے اس سے مغفرت مانگنے سے پہلے ہی معاف کر دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حَدَّثَنَا معاوية بن هشام، حَدَّثَنَا سفيان، عن السُّدِّي، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ قال: يتوبون (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7647 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7647 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [سورة السجدة: 21] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس سے مراد ہے کہ) وہ توبہ کریں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا همَّام وحمَّاد بن سَلَمة، قالا: حَدَّثَنَا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس قال: جاء رجلٌ إلى النَّبِيِّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، أصبتُ حدًّا، قال: فلم يسأله عنه، وأُقيمتِ الصلاةُ، فصلَّى النَّبِيّ ﷺ، فلمَّا فَرَغَ من صلاته قال: يا رسولَ الله، أصبتُ حدًّا، فأقِمْ فيَّ كتابَ الله، قال: "صلَّيتَ معنا الصلاةَ؟ " قال: نعم، قال: "قد غُفِرَ لك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7648 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7648 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ سے حد (کا گناہ) سرزد ہو گیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے اس کے متعلق کچھ دریافت نہیں فرمایا، پھر نماز قائم کی گئی اور نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ سے حد والا گناہ ہو گیا ہے، پس مجھ پر اللہ کی کتاب (کی حد) نافذ فرما دیجیے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں معاف کر دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔