حدیث نمبر: 7837
حدَّثَنِيهِ علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا أبو مُسلِم ومحمد بن غالب، قالا: حَدَّثَنَا حجَّاج بن نُصَير، حَدَّثَنَا شدَّاد بن سعيد، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "تُحشَرُ هذه الأمّةُ على ثلاثة أصنافٍ: صنفٍ يدخلون الجنَّةَ بغير حساب، وصنفٍ يُحاسَبون حِسابًا يسيرًا، وصنفٍ يَجِيئون على ظهورهم أمثالُ الجبال الراسياتِ، فيسأل اللهُ عنهم - وهو أعلمُ بهم - فيقول: ما هؤلاءِ؟ فيقولون: هؤلاءِ عَبيدٌ من عِبادِك، فيقول: حُطُّوها عنهم، واجعَلُوها على اليهود والنصارى، وأَدِخلوهم برحمتي الجنَّةَ" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ امت تین گروہوں میں تقسیم ہو کر اٹھے گی: ایک گروہ وہ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا، ایک گروہ جس کا حساب سرسری (آسان) لیا جائے گا، اور ایک گروہ وہ جو اپنی پشتوں پر مضبوط پہاڑوں جیسے گناہ لاد کر لائے گا، تو اللہ تعالیٰ ان کے متعلق پوچھے گا - حالانکہ وہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے - کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو وہ (فرشتے) عرض کریں گے: یہ تیرے بندوں میں سے تیرے ہی بندے ہیں، پھر اللہ فرمائے گا: ان (کے گناہوں کا بوجھ) اتار دو اور انہیں یہودیوں اور عیسائیوں پر ڈال دو، اور انہیں میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7837
درجۂ حدیث محدثین: شاذٌّ بهذا
تخریج حدیث «شاذٌّ بهذا اللفظ كسابقه» [ترقيم الرساله 7837] [ترقيم الشركة 7744]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) شاذٌّ بهذا اللفظ كسابقه. أبو مسلم هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی ان الفاظ کے ساتھ "شاذ" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مسلم سے مراد ابراہیم بن عبداللہ بن مسلم الکجّی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7837 سے ماخوذ ہے۔