المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
تُحْشَرُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ . باب: اس امت کا حشر تین گروہوں کی صورت میں ہوگا
حدَّثَنِيهِ علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا أبو مُسلِم ومحمد بن غالب، قالا: حَدَّثَنَا حجَّاج بن نُصَير، حَدَّثَنَا شدَّاد بن سعيد، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "تُحشَرُ هذه الأمّةُ على ثلاثة أصنافٍ: صنفٍ يدخلون الجنَّةَ بغير حساب، وصنفٍ يُحاسَبون حِسابًا يسيرًا، وصنفٍ يَجِيئون على ظهورهم أمثالُ الجبال الراسياتِ، فيسأل اللهُ عنهم - وهو أعلمُ بهم - فيقول: ما هؤلاءِ؟ فيقولون: هؤلاءِ عَبيدٌ من عِبادِك، فيقول: حُطُّوها عنهم، واجعَلُوها على اليهود والنصارى، وأَدِخلوهم برحمتي الجنَّةَ" (1).
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ امت تین گروہوں میں تقسیم ہو کر اٹھے گی: ایک گروہ وہ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا، ایک گروہ جس کا حساب سرسری (آسان) لیا جائے گا، اور ایک گروہ وہ جو اپنی پشتوں پر مضبوط پہاڑوں جیسے گناہ لاد کر لائے گا، تو اللہ تعالیٰ ان کے متعلق پوچھے گا - حالانکہ وہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے - کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو وہ (فرشتے) عرض کریں گے: یہ تیرے بندوں میں سے تیرے ہی بندے ہیں، پھر اللہ فرمائے گا: ان (کے گناہوں کا بوجھ) اتار دو اور انہیں یہودیوں اور عیسائیوں پر ڈال دو، اور انہیں میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی ان الفاظ کے ساتھ "شاذ" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مسلم سے مراد ابراہیم بن عبداللہ بن مسلم الکجّی ہیں۔