کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس امت کا عذاب قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، حَدَّثَنَا صَدَقة بن المثنّى، حَدَّثَنَا رِياح بن الحارث (2)، عن أبي بُرْدة، قال: بَيْنا أنا واقفٌ في السُّوق في إمارة زياد، إذ ضربتُ بإحدى يديَّ على الأخرى تعجُّبًا، فقال رجلٌ من الأنصار - قد كانت لوالده صحبةٌ مع رسول الله ﷺ: ممّا تَعجَبُ يا أبا بُرْدة؟ قلتُ أعجَبُ من قومٍ دينُهم واحدٌ، ونبيُّهم واحدٌ، ودعوتُهم واحدةٌ، وحجُّهم واحدٌ، وغزوُهم واحدٌ، يَستحِلُّ بعضُهم قتل بعض، قال: فلا تَعجَبْ، فإنِّي سمعتُ والدي أخبرني أنه سَمِعَ رسولَ الله ﷺ يقول: "إِنَّ أُمّتي (1) أُمَّةٌ مرحومةٌ ليس عليها في الآخرة حسابٌ ولا عذابٌ، إنما عذابُها في القَتْلِ والزَّلازل والفِتَن" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7649 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں زیاد کی امارت کے دوران بازار میں کھڑا تھا کہ اچانک میں نے تعجب سے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارا، تو ایک انصاری شخص - جن کے والد صحابی رسول تھے - نے پوچھا: اے ابوبردہ! تم کس بات پر تعجب کر رہے ہو؟ میں نے کہا: مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جن کا دین ایک ہے، نبی ایک ہے، دعوت ایک ہے، حج اور جہاد ایک ہے، پھر بھی وہ ایک دوسرے کا خون حلال سمجھتے ہیں، تو انہوں نے کہا: تعجب نہ کرو، کیونکہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک میری یہ امت ایسی امت ہے جس پر رحم کیا گیا ہے، آخرت میں اس پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہے، اس کا عذاب صرف (دنیا میں) قتل، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں رکھ دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي بُرْدة قال: كنتُ عند عُبيد الله بن زياد، فأُتي برؤوس خَوارجَ، فكلما مرُّوا عليه برأس قال: إلى النار، فقال له عبد الله بن يزيد: أوَلا تدري، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "عذابُ هذه الأمّة جُعِل بأيديها في دُنياها" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحده حديثَ طلحة بن يحيى عن أبي بُردة عن أبي موسى: "أمّتي أمّةٌ مرحومة" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7650 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحده حديثَ طلحة بن يحيى عن أبي بُردة عن أبي موسى: "أمّتي أمّةٌ مرحومة" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7650 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ وہاں خوارج کے سر لائے گئے، جب بھی اس کے سامنے سے کوئی سر گزرتا وہ کہتا: یہ آگ میں جائے گا، تو عبداللہ بن یزید نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت کا عذاب اس کے اپنے ہاتھوں میں اس کی دنیا ہی میں رکھ دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا طلحہ بن یحییٰ کی ابوبردہ سے اور انہوں نے ابوموسیٰ سے ”میری امت امتِ مرحومی ہے“ والی حدیث روایت کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا طلحہ بن یحییٰ کی ابوبردہ سے اور انہوں نے ابوموسیٰ سے ”میری امت امتِ مرحومی ہے“ والی حدیث روایت کی ہے۔