کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: عقیقے کا طریقہ اور اس کے ایام کا بیان
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان، عن عطاء، عن أمِّ كُرْز وأبي كُرْز، قالا: نَذَرَتِ امرأةٌ من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إنْ ولدتِ امرأةُ(3) عبد الرحمن نَحَرْنا جَزُورًا، فقالت عائشةُ: لا، بل السُّنةُ أفضلُ: عن الغلام شاتانِ مكافَأَتان، وعن الجارية شاةٌ، تُقطَّعُ جُدُولًا ولا يُكسَرُ لها عظَمٌ، فيأكلُ ويُطعِمُ ويتصدَّقُ، وليكن ذلك يومَ السابع، فإن لم يكُنْ ففي أربعةَ عشرَ، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين(4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الملك بن أبي سليمان، عن عطاء، عن أمِّ كُرْز وأبي كُرْز، قالا: نَذَرَتِ امرأةٌ من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إنْ ولدتِ امرأةُ(3) عبد الرحمن نَحَرْنا جَزُورًا، فقالت عائشةُ: لا، بل السُّنةُ أفضلُ: عن الغلام شاتانِ مكافَأَتان، وعن الجارية شاةٌ، تُقطَّعُ جُدُولًا ولا يُكسَرُ لها عظَمٌ، فيأكلُ ويُطعِمُ ويتصدَّقُ، وليكن ذلك يومَ السابع، فإن لم يكُنْ ففي أربعةَ عشرَ، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين(4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7595 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام کرز اور ابو کرز بیان کرتے ہیں کہ آلِ عبدالرحمن بن ابی بکر کی ایک خاتون نے نذر مانی کہ اگر عبدالرحمن کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو ہم ایک اونٹ ذبح کریں گے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں، بلکہ سنت پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے (اور وہ یہ ہے کہ) لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (ذبح کی جائے)، اسے جوڑوں سے کاٹا جائے اور اس کی کوئی ہڈی نہ توڑی جائے، پھر (وہ گوشت) خود کھایا جائے، دوسروں کو کھلایا جائے اور صدقہ کیا جائے، اور یہ (عقیقہ) ساتویں دن ہونا چاہیے، اگر (اس دن) نہ ہو سکے تو چودھویں دن، اور اگر (تب بھی) نہ ہو سکے تو اکیسویں دن۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الذبائح / حدیث: 7787
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7787] [ترقيم الشركة 7694] [ترقيم العلميه 7595]
حدثنا الحسن بن يعقوب، حدثنا (1) محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن خَيثمة، عن الأشعث بن قيس، قال: وُلد لي غلامٌ، فبُشِّرتُ به وأنا عند النبيَّ ﷺ، فقلت: وَدِدتُ لكم مكانَه قَصْعةً (2) من خُبز ولحم، فقال رسول الله ﷺ: "إنْ قلتَ ذاكَ، إنهم لمَبْحَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ، وإنهم لثَمَرَةُ القلوب وقُرَّةُ العَين" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7596 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا، جب مجھے اس کی بشارت دی گئی تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا، میں نے (بطورِ مزاح) کہا: میری خواہش تھی کہ اس کے بدلے آپ لوگوں کے لیے روٹی اور گوشت سے بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے یہ بات کہی ہے (تو یاد رکھو) کہ یہ (بچے) بخل، بزدلی اور غم کا باعث بنتے ہیں، لیکن یہ دلوں کا میوہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الذبائح / حدیث: 7788
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن خيثمة» [ترقيم الرساله 7788] [ترقيم الشركة 7695] [ترقيم العلميه 7596]