کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقہ) ہے
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن أبي يزيد، حدثني أبي، عن سباع بن ثابت، عن أمِّ كُرْز قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أَقِرُّوا الطَّيرَ على مُكنَاتِها"، وسمعته يقول: "عن الغُلام شاتانِ، وعن الجاريةِ شاةٌ، لا يَضُرُّك ذُكرانًا كنَّ أو إناثًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7591 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7591 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں برقرار رہنے دو“، اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (ذبح کی جائے)، تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ (بکریاں) نر ہوں یا مادہ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جَدِّي، حدثنا أبو بكر ابن شَيْبة الحِزامي، حدثنا داود بن قيس، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جَدِّه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن العَقِيقة، فقال: "لا أُحِبُّ العُقوقَ، مَن وُلِدَ له منكم مولودٌ فأحبَّ أن يَنسُكَ عنه فليفعَلْ، عن الغلام شاتانِ، وعن الجاريةِ شاةٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7592 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7592 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں «عُقوق» (نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا، تم میں سے جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو وہ کر لے، لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (ذبح کی جائے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني جرير بن حازم، عن عبد الله بن المُخْتار (1)، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ مع الغلام عقيقةً، فأَهرِيقُوا عنه دمًا، وأَمِيطُوا عنه الأَذى" (2). قال جرير: سُئِلَ الحسنُ عن الأذى، فقال: هو الشَّعر.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7593 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7593 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کے ساتھ عقیقہ وابستہ ہے، پس اس کی طرف سے خون بہاؤ (جانور ذبح کرو) اور اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرو۔“ جریر کہتے ہیں کہ جب امام حسن بصری سے تکلیف دہ چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد (سر کے پیدائشی) بال ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، أخبرنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة (1)، عن أبيه قال: كُنَّا في الجاهلية إذا وُلِد لنا غلامٌ ذَبَحْنا عنه شاةً، وحلَقْنا رأسَه، ولَطَحْنا رَأسَه بدمِها، فلمَّا كان الإسلامُ كنَّا إذا وُلِدَ لنا غلامٌ ذَبَحْنا عنه شاةً، وحلَقْنا رأسَه، ولطَخْنا رأسَه بزَعْفَران (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7594 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7594 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم دورِ جاہلیت میں جب ہمارے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو ہم اس کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے، اس کا سر منڈواتے اور اس کے سر پر (ذبح شدہ جانور کا) خون مل دیتے تھے، پھر جب اسلام آیا تو ہم (طریقہ بدل کر) لڑکا پیدا ہونے پر بکری ذبح کرنے لگے، اس کا سر منڈواتے اور اس کے سر پر زعفران ملنے لگے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔