حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربِّه بن سعيد، حدثني المِنْهال بن عمرو، أخبرني سعيد بن جُبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس قال: كان النبيُّ ﷺ إذا عاد المريضَ جلسَ عند رأسِه، ثم قال سبعَ مرَّات: "أَسأَلُ اللهَ العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفِيَكَ"، فإن كان في أجله تأخيرٌ، عُوفِيَ من وَجَعِه ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم يُتابِع عمرَو بن الحارث على ذِكر عبد الله بن الحارث (1) بين سعيد وابن عباس أحدٌ، إنما رواه الحجّاج بن أَرْطاة عن المنهال عن عبد الله بن الحارث، ولم يذكر بينهما سعيدَ بن جبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7487 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم يُتابِع عمرَو بن الحارث على ذِكر عبد الله بن الحارث (1) بين سعيد وابن عباس أحدٌ، إنما رواه الحجّاج بن أَرْطاة عن المنهال عن عبد الله بن الحارث، ولم يذكر بينهما سعيدَ بن جبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7487 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو اس کے سرہانے بیٹھتے، پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھتے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے“، چنانچہ اگر اس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہوتا تو وہ اپنی اس تکلیف سے شفا پا جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث کے علاوہ کسی نے سعید اور ابن عباس کے درمیان عبداللہ بن حارث کا ذکر نہیں کیا، جبکہ حجاج بن ارطاہ نے اسے منہال سے عبداللہ بن حارث کے حوالے سے روایت کیا ہے اور درمیان میں سعید بن جبیر کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث کے علاوہ کسی نے سعید اور ابن عباس کے درمیان عبداللہ بن حارث کا ذکر نہیں کیا، جبکہ حجاج بن ارطاہ نے اسے منہال سے عبداللہ بن حارث کے حوالے سے روایت کیا ہے اور درمیان میں سعید بن جبیر کا تذکرہ نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد ابن هارون، أخبرنا الحَجّاج بن أَرْطاة، عن المِنْهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ قال: "من عاد مريضًا فقال: أَسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيَك؛ سبعًا، عُوفِيَ إن لم يكن حَضَرَ أَجَلُه" (2). وقد رواه أبو خالد الدَّالَاني ومَيْسرةُ بن حَبيب النَّهدي عن المِنهال بن عمرو عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس. أما حديث [أبي] (3) خالد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» (میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے)، تو اسے شفا مل جاتی ہے بشرطیکہ اس کی موت کا وقت نہ آگیا ہو۔“
فأخبرَناه عبد الرحمن بن الحسن (4) القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله أحمد بن بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر عن شُعبة، عن يزيد (5) أبي خالد الدَّالَاني قال: سمعتُ المِنهال بن عمرو يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال: "ما من عبدٍ مُسلمٍ يعودُ مريضًا لم يَحضُرُ أجلُه، فيقولُ سبعَ مرات: أسألُ الله العظيمَ، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَك، إلَّا عُوفي" (1). وأما حديث مَيسَرة بن حَبيب:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ پہنچا ہو، اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» (میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے)، تو اسے ضرور شفا مل جاتی ہے۔“
فحدَّثنا أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى، حدثنا الأشجعي، عن شُعْبة، عن مَيسَرة النَّهدي، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن دَخَلَ على مريض لم يَحضُرْ أجلُه، فقال: أسأل الله العظيمَ، ربَّ العرشِ العظيمِ، أنْ يَشفِيَك؛ سبعًا، إلَّا عُوفي" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کے پاس جائے جس کی اجل ابھی نہ آئی ہو، اور سات مرتبہ کہے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» (میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے)، تو وہ تندرست ہو جاتا ہے۔“