حدیث نمبر: 7679
فأخبرَناه عبد الرحمن بن الحسن (4) القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله أحمد بن بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر عن شُعبة، عن يزيد (5) أبي خالد الدَّالَاني قال: سمعتُ المِنهال بن عمرو يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال: "ما من عبدٍ مُسلمٍ يعودُ مريضًا لم يَحضُرُ أجلُه، فيقولُ سبعَ مرات: أسألُ الله العظيمَ، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَك، إلَّا عُوفي" (1). وأما حديث مَيسَرة بن حَبيب:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ پہنچا ہو، اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» (میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے)، تو اسے ضرور شفا مل جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7679
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد من أجل المنهال بن عمرو ويزيد الدالاني
تخریج حدیث «إسناده جيد من أجل المنهال بن عمرو ويزيد الدالاني، وسلف برقم (1284) من طريق آدم ابن أبي إياس عن شعبة» [ترقيم الرساله 7679] [ترقيم الشركة 7587]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرف في النسخ الخطية إلى: الحسين.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسین" ہو گیا ہے۔
(5) أُقحم هنا في النسخ لفظ "بن"، وهو خطأ.
اہم نکتہ: یہاں نسخوں میں لفظ "بن" غلطی سے زیادہ لکھا گیا ہے۔
(1) إسناده جيد من أجل المنهال بن عمرو ويزيد الدالاني، وسلف برقم (1284) من طريق آدم ابن أبي إياس عن شعبة. وهو في "مسند أحمد" 4 / (2137).
درجۂ حدیث: منہال بن عمرو اور یزید الدالانی کی وجہ سے اس کی سند "جید" ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت پیچھے نمبر (1284) پر گزری ہے اور "مسند احمد" 4 / (2137) میں بھی موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (2083)، والنسائي (10820) من طريق محمد بن جعفر وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2083) اور امام نسائی (10820) نے تنہا محمد بن جعفر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن غريب.
درجۂ حدیث: امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7679 سے ماخوذ ہے۔