کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے ڈاکٹری (علاج) کی حالانکہ وہ طب سے واقف نہ تھا، تو وہ (نقصان کا) ضامن ہوگا
حدثنا أبو زكريا العَنْبري وأبو بكر بن جعفر المزكِّي وعبد الله بن سعد الحافظ وعلي بن عيسى الحيري، قالوا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن جُريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن تَطَبَّبَ ولم يُعرَفْ منه طِبٌّ، فهو ضامِنٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7484 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7484 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے علمِ طب میں مہارت کے بغیر علاج معالجہ کیا، وہ (کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان کا) ضامن ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كُنَّا نَرْقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسولَ الله، كيف ترى في ذلك؟ فقال: "اعرِضُوا عليَّ رُقَاكم، لا بأسَ بالرُّقَى ما لم يكن شِركٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7485 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7485 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم دورِ جاہلیت میں دم (جھاڑ پھونک) کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے دم مجھ پر پیش کرو، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرک (کا شائبہ) نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبيد الله بن محمد البَلْخي، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا محمد بن وهب بن عطيّة السُّلَمي، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا محمد بن الوليد الزُّبيدي، حدثنا الزُّهْري عن عُرْوة بن الزُّبير، عن زينب بنت أبي سَلَمة، عن أُمَّ سَلَمة: أنَّ النبيَّ ﷺ رأى في بيتها جاريةً في وجهها سَفْعةٌ، فقال: "استَرْقُوا لها، فإنَّ بها النَّظْرةَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7486 - قد أخرجه البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7486 - قد أخرجه البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر زردی یا جھائیں «سَفْعةٌ» تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے دم کرواؤ کیونکہ اسے نظرِ بد لگی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔