المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
الدُّعَاءُ عِنْدَ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَأَدَبُهَا . باب: بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
حدیث نمبر: 7678
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد ابن هارون، أخبرنا الحَجّاج بن أَرْطاة، عن المِنْهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ قال: "من عاد مريضًا فقال: أَسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيَك؛ سبعًا، عُوفِيَ إن لم يكن حَضَرَ أَجَلُه" (2). وقد رواه أبو خالد الدَّالَاني ومَيْسرةُ بن حَبيب النَّهدي عن المِنهال بن عمرو عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس. أما حديث [أبي] (3) خالد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» (میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے)، تو اسے شفا مل جاتی ہے بشرطیکہ اس کی موت کا وقت نہ آگیا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث جيد كسابقه والحجاج بن أرطاة ليس بذاك القوي خاصة عند المخالفة، وقد خولف كما سلف بيانه عند الحديث (1285).
درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی جید ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج بن ارطاہ قوی راوی نہیں ہیں، بالخصوص جب وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کریں، جیسا کہ حدیث (1285) میں بیان ہوا۔
وسلف برقم (1286) من طريق يزيد بن هارون.
تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (1286) پر یزید بن ہارون کے طریق سے گزر چکی ہے۔
(3) سقطت من النسخ الخطية.
اہم نکتہ: یہ حصہ قلمی نسخوں سے ساقط ہے۔
درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی جید ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج بن ارطاہ قوی راوی نہیں ہیں، بالخصوص جب وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کریں، جیسا کہ حدیث (1285) میں بیان ہوا۔
وسلف برقم (1286) من طريق يزيد بن هارون.
تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (1286) پر یزید بن ہارون کے طریق سے گزر چکی ہے۔
(3) سقطت من النسخ الخطية.
اہم نکتہ: یہ حصہ قلمی نسخوں سے ساقط ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7678 سے ماخوذ ہے۔