المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
الدُّعَاءُ عِنْدَ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَأَدَبُهَا . باب: بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربِّه بن سعيد، حدثني المِنْهال بن عمرو، أخبرني سعيد بن جُبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس قال: كان النبيُّ ﷺ إذا عاد المريضَ جلسَ عند رأسِه، ثم قال سبعَ مرَّات: "أَسأَلُ اللهَ العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفِيَكَ"، فإن كان في أجله تأخيرٌ، عُوفِيَ من وَجَعِه ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم يُتابِع عمرَو بن الحارث على ذِكر عبد الله بن الحارث (1) بين سعيد وابن عباس أحدٌ، إنما رواه الحجّاج بن أَرْطاة عن المنهال عن عبد الله بن الحارث، ولم يذكر بينهما سعيدَ بن جبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7487 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو اس کے سرہانے بیٹھتے، پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھتے: «اَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے“، چنانچہ اگر اس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہوتا تو وہ اپنی اس تکلیف سے شفا پا جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث کے علاوہ کسی نے سعید اور ابن عباس کے درمیان عبداللہ بن حارث کا ذکر نہیں کیا، جبکہ حجاج بن ارطاہ نے اسے منہال سے عبداللہ بن حارث کے حوالے سے روایت کیا ہے اور درمیان میں سعید بن جبیر کا تذکرہ نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ "جید" (عمدہ) حدیث ہے، اس کی سند پر تفصیلی کلام روایت نمبر (1285) میں ہو چکا ہے۔
(1) قوله: "على ذكر عبد الله بن الحارث" سقط من (ز).
اہم نکتہ: یہ الفاظ نسخہ (ز) میں موجود نہیں ہیں۔