کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دلیہ (حسا) بیمار کے دل سے غم و بوجھ کو ہلکا کر دیتا ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو محمد بن موسى العدل، قالا: أخبرنا علي بن الحُسين بن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن أيوب بن عبد الرحمن بن صَعْصَعة، عن يعقوب بن أبي يعقوب، عن أُمِّ المنذر الأنصارية -وكانت إحدى خالات النبيِّ ﷺ قالت: دخل عليَّ رسول الله ﷺ معه عليٌّ ناقِةٌ من مرضٍ، وفي البيت عِذْقٌ مُعلَّق، فقام النبيُّ (3) ﷺ فتناول منه، وأقبل عليٌّ يتناولُ منه، فقال: "دَعْه، فإِنَّه لا يُوافقُكَ، إِنَّكَ ناقِهٌ" فقمتُ إلى شعير وسِلْق، فطبختُ فجئتُ به إلى رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "يا عليُّ من هذا، فهو أوفَقُ لك" (1). رواه زيد بن الحُباب عن فُليح بن سليمان وقال: عن أمِّ مُبشِّر الأنصارية:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام منذر انصاریہ رضی اللہ عنہا (جو کہ نبی کریم ﷺ کی خالاؤں میں سے ایک تھیں) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے جو ابھی بیماری سے اٹھے تھے (کمزور تھے)، گھر میں کھجور کا ایک خوشہ لٹکا ہوا تھا، نبی کریم ﷺ اٹھے اور اس میں سے کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رک جاؤ، یہ تمہارے موافق نہیں ہے کیونکہ تم ابھی کمزور ہو،“ تب میں اٹھی اور میں نے جو اور چقندر (کا سالن) تیار کیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! اس میں سے کھاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔“
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق، أخبرنا زيد بن الحُبَاب، حدثني فُلَيح بن سليمان المدني، أخبرني أيوب بن عبد الرحمن الأنصاري، أخبرني يعقوب بن أبي يعقوب، عن أمِّ مُبشِّر الأنصارية -وكانت بعضَ خالاتِ النبيِّ ﷺ قالت: دخلَ عليَّ رسولُ الله ﷺ ومعه عليٌّ ناقةٌ من مرضٍ، فذكر الحديث بنحوه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7452 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7452 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا (جو کہ نبی کریم ﷺ کی بعض خالاؤں میں سے ایک تھیں) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے جو ابھی بیماری سے اٹھے تھے، پھر راوی نے اسی طرح حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليّة، حدثنا محمد بن السائب بن بَرَكة المكي، عن أُمِّه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا أخذ أهلَه الوَعْكُ، أمرَ بالحَسَاء فصُنِع، ثم أمَرَهم فحَسَوْا منه، ويقول: "إِنَّهُ لَيَرْتُو فؤادَ الحَزين، ويَسرُو عن فؤادِ السَّقيم، كما تَسرُو إحداكُنَّ الوسخَ بالماء عن وجهِها" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بخار یا تکلیف میں مبتلا ہوتا تو آپ ﷺ دلیہ «الحَسَاء» تیار کرنے کا حکم دیتے، پھر انہیں حکم دیتے کہ اس میں سے پئیں اور آپ فرماتے: ”بے شک یہ غمگین کے دل کو طاقت دیتا ہے اور بیمار کے دل سے دکھ کو اسی طرح دور کر دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے سے پانی کے ذریعے میل کچیل دور کرتی ہے۔“