کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تمہاری بہترین کھجوروں میں سے "برنی" ہے جو بیماری کو دور کرتی ہے اور اس میں کوئی بیماری نہیں
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد القطّان، حدثنا يحيى ابن جعفر بن الزِّبرِقان، حدثنا عُبيد بن واقِد بن القاسم القَيْسي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن (1) العَبْدي، عن حميد، عن أنس بن مالك: أنَّ وَفْدَ عبد القيس من أهل هَجَر قَدِمُوا على رسول الله ﷺ، فبينما هم قُعودٌ عندَه إذ أقبلَ عليهم، فقال لهم: "تمرةٌ تَدْعُونَها كذا، وتمرةٌ تَدعونَها كذا" حتى عدَّ ألوان تَمَراتِهم أجمعَ، فقال له رجلٌ من القوم: بأبي أنت وأُمِّي يا رسول الله، لو كنتَ وُلِدت في جوفِ هَجَرَ، ما كنتَ بأعلمَ منك الساعة، أشهدُ أنَّك رسولُ الله، فقال: "إِنَّ أَرضَكم رُفِعَت لي منذ قعدتُم إليَّ، فنَظَرتُ من أذناها إلى أقْصاها، فخيرُ تَمَراتِكم البَرْنِي يُذهِبُ الداءَ ولا داءَ فيه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سعيد الخُدْري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7450 - الحديث منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سعيد الخُدْري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7450 - الحديث منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل ہجر میں سے وفد عبد القیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کی کھجوروں کی مختلف اقسام کے نام لیے یہاں تک کہ ان کی کھجوروں کی تمام اقسام گنوا دیں، ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اگر آپ ہجر کے علاقے میں پیدا ہوئے ہوتے تب بھی اس وقت آپ سے زیادہ باخبر نہ ہوتے، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میرے پاس بیٹھے تو تمہاری زمین میرے سامنے کر دی گئی، میں نے اس کے قریبی اور دور دراز کے حصوں کو دیکھا، تمہاری کھجوروں میں سے بہترین ”برنی“ ہے جو بیماری کو دور کرتی ہے اور اس میں کوئی بیماری (مضرت) نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سعيد بن سُوَيد السابِرِي، حدثنا خالد بن رَبَاح البصري، عن أبي الصِّدِّيق الناجيّ، عن أبي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ: "خيرُ تمرِكم (1) البَرْنِيُّ، يُخرِجُ الداءَ ولا داءَ فيه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7451 - أخرجناه شاهدا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7451 - أخرجناه شاهدا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کھجوروں میں سے بہترین ’برنی‘ ہے، یہ بیماری کو نکال دیتی ہے اور اس میں کوئی بیماری (مضرت) نہیں ہے۔“