کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تم اس ناپسندیدہ مگر فائدہ مند "تلبینہ" کو لازم کر لو
وأخبرنا أبو عبد الله، حدثنا يحيى بن محمد [حدثنا مُسدَّد] (2) حدثنا المُعتمِر قال: سمعتُ أيمنَ المكّي يقول: حدثتني فاطمة بنتُ المنذر عن أُمِّ كُلثوم، عن عائشة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "عليكم بالبَغيضِ النافع؛ التَّلبينةِ، والذي نفسُ محمدٍ بيده، إنه لَيَغسِلُ بطنَ أحدِكم كما يَغسِلُ الوسخَ عن وجهِه بالماء". قالت: وكان النبيُّ ﷺ إذا اشتكى أحدٌ من أهلِه، لم تَزَلِ البُرْمةُ على النار حتى يقضيَ على أحدِ طَرَفَيهِ؛ إما موتٌ أو حياةٌ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّ مسلم بمحمد بن السائب، واحتجَّ البخاري بأيمن بن نابل المكي، ثم لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7455 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم ناپسندیدہ مگر نفع بخش چیز یعنی ’تلبینہ‘ (دلیہ) کو لازم پکڑو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے! بے شک یہ تمہارے پیٹ کو اسی طرح دھو دیتا ہے جیسے پانی چہرے سے میل کچیل کو دھو دیتا ہے،“ اور جب نبی کریم ﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہنڈیا چولہے پر ہی رہتی یہاں تک کہ فیصلہ ہو جاتا، یا وہ (بیمار) وفات پا جاتا یا تندرست ہو جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ امام مسلم نے محمد بن سائب سے اور امام بخاری نے ایمن بن نابل مکی سے احتجاج کیا ہے، تاہم ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7643
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، فقد اختُلف فيه على أيمن بن نابل، فرواه عنه جمع عن فاطمة عن أم كلثوم، ورواه جمع آخر عنه بإسقاط فاطمة، وفاطمة هذه قد اختلف في نسبتها، فقيل: بنت أبي ليث، وقيل: بنت أبي عقرب، وهي مجهولة، وما وقع هنا عند المصنف وفيما سيأتي برقم (8449) من أنها ...» [ترقيم الرساله 7643] [ترقيم الشركة 7551] [ترقيم العلميه 7455]
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا محمد ويَعْلى ابنا عُبيد، قالا: حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: كان عند أُمِّ المؤمنين عائشةَ صبِيٌّ يَقطُرُ مَنْخِراهُ دمًا، فدخل رسول الله ﷺ فقال: "ما شأنُ هذا الصبيِّ؟ " قالت: به العُذْرةُ، فقال: "وَيحَكُنَّ يا معشرَ النساءِ، لا تَقتُلنَ أولادَكنَّ، وأيُّ امرأةٍ بصبيِّها عُذرةٌ أو وَجِعَ رأسُه، فلتأخُذُ قُسْطًا هنديًّا"، قال: وأمر عائشةَ، ففعلت ذلك، فبَرَأَ. (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد أخرج البخاري أيضًا حديثَ الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله عن أُمِّ قيس بنت مِحصَن بنحو هذا مختصرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7456 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بچہ تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”اس بچے کو کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اسے «العُذْرةُ» (گلے کی بیماری) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا برا ہو اے عورتوں کی جماعت! اپنے بچوں کو قتل نہ کرو، جس عورت کے بچے کو گلے کی بیماری ہو یا سر میں درد ہو، اسے چاہیے کہ ’قسط ہندی‘ لے،“ پھر آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو (علاج کا) حکم دیا، انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ بچہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام بخاری نے بھی زہری کی روایت سے ام قیس بنت محصن کے حوالے سے اس طرح کی حدیث اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7644
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان: وهو طلحة بن نافع» [ترقيم الرساله 7644] [ترقيم الشركة 7552] [ترقيم العلميه 7456]
أخبرني محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا نُصَير بن أبي الأشعث، قال: سمعتُ أبا الزُّبير يَذكُر عن جابر: أنَّ امرأةً جاءت بصبيٍّ لها إلى النبيِّ ﷺ، فقالت: أفقَأُ منه العُذْرةَ؟ فقال: " [لا] (1) تُحرِقُوا حُلوقَ أولادِكم، خُذِي قُسْطًا هنديًّا ووَرْسًا فَأَسعِطِيهِ إياه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: کیا میں اس کا تالو دبا کر اس کی «العُذْرةُ» (گلے کی بیماری) کا علاج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بچوں کے حلق کو نہ جلاؤ، بلکہ ’قسط ہندی‘ اور ’ورس‘ لو اور اسے اس کی ناک میں (بطورِ ”سعوط“) ڈالو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7645
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7645] [ترقيم الشركة 7553] [ترقيم العلميه 7457]