کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قسطِ بحری اور زیتون کے تیل سے "ذات الجنب" (پسلی کے درد) کا علاج
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا عمرو ابن محمد بن أبي رَزين، حدثنا شُعْبة (2)، عن خالد الحذَّاء، عن ميمون أبي عبد الله، عن زيد بن أرقم قال: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَتداوَى من ذات الجَنْب بالقُسْط البحريِّ والزَّيت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قَتَادة عن ميمون أبي عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7443 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قَتَادة عن ميمون أبي عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7443 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم «ذات الجَنْب» ”ذات الجنب“ (پھسلی کے درد یا پھیپھڑوں کی جھلی کی سوزش) کا علاج قسط بحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن أبي عبد الله، عن زيد بن أرقَم قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَنعَتُ الزَّيتَ والوَرْسَ من ذات الجَنْب (2). قال قَتَادة: تَلُدُّه من الجانب الذي يَشتَكي. وقد رواه عبد الرحمن بن ميمون عن أبيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7444 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7444 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ”ذات الجنب“ کے لیے زیتون کے تیل اور «الوَرس» ”ورس“ (ایک زرد خوشبودار بوٹی) کی تعریف فرما رہے تھے۔ قتادہ نے کہا: (اس کا طریقہ یہ ہے کہ) جس طرف درد ہو اسی جانب سے مریض کے منہ کے کونے میں دوا ڈالی جائے۔
أخبرَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضرَمي، حدثني عبد الرحمن بن ميمون، حدثني أبي، عن زيد بن أرقَم قال: نَعَتَ لنا رسول الله ﷺ من ذاتِ الجَنْب وَرْسًا وزيتًا وقُسْطًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ”ذات الجنب“ کے علاج کے طور پر ورس، زیتون کا تیل اور قسط (بحری) کی تعریف فرمائی۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن ابن الحارث بن هشام، عن أسماء بنت عُميس قالت: أولُ ما اشتَكى رسولُ الله ﷺ في بيت ميمونة، فاشتدَّ وجعُه (2) حتى أُغميَ عليه، قال: فتشاور نساءٌ في لَدِّه فلَدُّوه، فلمَّا أفاقَ قال: "ما هذا؟! فِعل نساءٍ جِئْنَ من هاهنا؟ " وأشار إلى أرض الحَبَشة، وكانت فيهنَّ أسماءُ بنت عُميس، فقالوا كنا نَتَّهم بك ذاتَ الجَنْب يا رسولَ الله، قال: "إنَّ ذلك لداءٌ ما كان الله لِيَقذِفَني به، لا يَبقَيَنَّ (3) في البيت أحدٌ إِلَّا التَدَّ إِلَّا عَمَّ رسولِ الله"؛ يعني عباسًا، قال: فلقد الْتدَّتْ ميمونةُ يومئذٍ وأنها لصائمةٌ بعَزيمةِ رسول الله ﷺ (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7446 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7446 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی علالت کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا، آپ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی یہاں تک کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، انہوں نے کہا: تب ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کے منہ میں دوا ڈالنے («لَدِّه») کے بارے میں مشورہ کیا اور آپ کو دوا پلا دی، جب آپ ﷺ کو افاقہ ہوا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟! کیا یہ ان عورتوں کا کام ہے جو یہاں سے آئی ہیں؟“ اور آپ ﷺ نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ فرمایا (کیونکہ وہاں اس طریقے سے علاج عام تھا) اور ان عورتوں میں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں خدشہ تھا کہ کہیں آپ کو ”ذات الجنب“ نہ ہو گیا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسی (تکلیف دہ) بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا، اب اس گھر میں موجود کوئی بھی شخص ایسا نہ رہے جس کے منہ میں (بطورِ تلافی) دوا نہ ڈالی جائے، سوائے رسول اللہ کے چچا کے“ یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، (راوی کہتے ہیں کہ) چنانچہ اس دن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو بھی دوا پلائی گئی حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی (پہلے لی گئی) قسم کی وجہ سے روزے سے تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي ابن عبد العزيز البَغَوي قالا: حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عروة، أخبرني أبي، أنَّ عائشة قالت: يا ابنَ أُختي، لقد رأيتُ من تعظيم رسول الله ﷺ عمَّه أمرًا عجيبًا، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ كانت تأخذه الخاصرةُ فتشتدُّ به جدًا، وكنَّا نقول: أخذَ رسولَ الله ﷺ عِرْقُ الكُلْية، ولا نَهتدي أن نقول: الخاصرة، عِرقٌ أخذَتْ رسول الله، يومًا، فاشتدَّتْ به حتى أُغميَ عليه وخِفْنا عليه، وفزع الناسُ إليه، فظنّنا أنَّ به ذاتَ الجَنْب فَلَدَدْناه، ثم سُرِّيَ عن رسولِ الله ﷺ وأَفاق، فعَرَفَ (1) أنَّه قد لُدَّ، ووَجَدَ أثر ذلك اللَّدَد، فقال: "أظننتُم أنَّ الله سلَّطها عليَّ؟ ما كان اللهُ لِيُسلِّطَها عليَّ، والذي نفسي بيده، لا يبقَى في البيت أحدٌ إِلَّا لُدَّ إلَّا عمِّي"، قالت: فرأيتُهم يَلُدُّونهم رجلًا رجلًا، قالت عائشة: ومَن في البيت يومَئِذٍ -فتذكُرُ فضلَهم- فلُدَّ الرجالُ أجمعون، وبلغ اللَّدُودُ أزواجَ النبي ﷺ، فلُدِدْنَ امرأةً امرأةً حتى بلغ اللَّدودُ امرأةً منا -قال أبو الزِّناد: ولا أعلمُها إِلَّا ميمونة، قال: وقال الناسُ: أمُّ سَلَمة- فقالت: إنِّي واللهِ لَصائمةٌ، فقلنا: بئسَ والله ما ظننتِ أن نتركَكِ وقد أقسَمَ رسولُ الله ﷺ، فَلَدَدْناها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7447 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7447 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے میرے بھانجے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے چچا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) کی جس طرح تعظیم کرتے ہوئے دیکھا وہ نہایت حیرت انگیز بات تھی، وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلو میں درد کی شکایت ہوئی جو بہت شدید ہو گئی، ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو گردے کی رگ کا درد ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے «الخاصرة» (پہلو کا درد) کہنا چاہیے، ایک دن آپ ﷺ کو یہ درد اس شدت سے ہوا کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور ہمیں آپ کی زندگی کے بارے میں اندیشہ لاحق ہوا اور لوگ گھبرا کر آپ کے پاس جمع ہو گئے، ہمیں گمان ہوا کہ آپ کو «ذات الجنب» (پھسلی کا درد) کی شکایت ہے، چنانچہ ہم نے آپ کے منہ میں (ایک جانب سے) دوا ڈال دی («لَدَدْناه»)، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف میں کمی ہوئی اور آپ کو افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی ہے اور آپ نے اس دوا کا ذائقہ پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری (ذات الجنب) کو مجھ پر مسلط کر دے گا؟ اللہ کبھی اسے مجھ پر مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس گھر میں موجود کوئی بھی شخص ایسا نہ بچے جسے (بطورِ بدلہ) یہ دوا نہ دی جائے سوائے میرے چچا کے“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ان سب کو ایک ایک کر کے وہی دوا دی جا رہی تھی، اس دن گھر میں جو مرد موجود تھے (اور عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی فضیلت کا تذکرہ فرماتی تھیں) ان تمام مردوں کو وہ دوا پلائی گئی، یہاں تک کہ ازواج مطہرات کی باری آئی اور انہیں بھی ایک ایک کر کے وہ دوا دی گئی، یہاں تک کہ ہم میں سے ایک خاتون کی باری آئی (ابوالزناد کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں) تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو روزے سے ہوں، لیکن ہم نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے کتنا برا گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کے باوجود ہم تمہیں چھوڑ دیں گے، چنانچہ ہم نے انہیں بھی وہ دوا پلا دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔