المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
التَّدَاوِي مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ باب: قسطِ بحری اور زیتون کے تیل سے "ذات الجنب" (پسلی کے درد) کا علاج
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي ابن عبد العزيز البَغَوي قالا: حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثني عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عروة، أخبرني أبي، أنَّ عائشة قالت: يا ابنَ أُختي، لقد رأيتُ من تعظيم رسول الله ﷺ عمَّه أمرًا عجيبًا، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ كانت تأخذه الخاصرةُ فتشتدُّ به جدًا، وكنَّا نقول: أخذَ رسولَ الله ﷺ عِرْقُ الكُلْية، ولا نَهتدي أن نقول: الخاصرة، عِرقٌ أخذَتْ رسول الله، يومًا، فاشتدَّتْ به حتى أُغميَ عليه وخِفْنا عليه، وفزع الناسُ إليه، فظنّنا أنَّ به ذاتَ الجَنْب فَلَدَدْناه، ثم سُرِّيَ عن رسولِ الله ﷺ وأَفاق، فعَرَفَ (1) أنَّه قد لُدَّ، ووَجَدَ أثر ذلك اللَّدَد، فقال: "أظننتُم أنَّ الله سلَّطها عليَّ؟ ما كان اللهُ لِيُسلِّطَها عليَّ، والذي نفسي بيده، لا يبقَى في البيت أحدٌ إِلَّا لُدَّ إلَّا عمِّي"، قالت: فرأيتُهم يَلُدُّونهم رجلًا رجلًا، قالت عائشة: ومَن في البيت يومَئِذٍ -فتذكُرُ فضلَهم- فلُدَّ الرجالُ أجمعون، وبلغ اللَّدُودُ أزواجَ النبي ﷺ، فلُدِدْنَ امرأةً امرأةً حتى بلغ اللَّدودُ امرأةً منا -قال أبو الزِّناد: ولا أعلمُها إِلَّا ميمونة، قال: وقال الناسُ: أمُّ سَلَمة- فقالت: إنِّي واللهِ لَصائمةٌ، فقلنا: بئسَ والله ما ظننتِ أن نتركَكِ وقد أقسَمَ رسولُ الله ﷺ، فَلَدَدْناها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7447 - صحيحسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے میرے بھانجے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے چچا (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) کی جس طرح تعظیم کرتے ہوئے دیکھا وہ نہایت حیرت انگیز بات تھی، وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلو میں درد کی شکایت ہوئی جو بہت شدید ہو گئی، ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو گردے کی رگ کا درد ہے اور ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے «الخاصرة» (پہلو کا درد) کہنا چاہیے، ایک دن آپ ﷺ کو یہ درد اس شدت سے ہوا کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور ہمیں آپ کی زندگی کے بارے میں اندیشہ لاحق ہوا اور لوگ گھبرا کر آپ کے پاس جمع ہو گئے، ہمیں گمان ہوا کہ آپ کو «ذات الجنب» (پھسلی کا درد) کی شکایت ہے، چنانچہ ہم نے آپ کے منہ میں (ایک جانب سے) دوا ڈال دی («لَدَدْناه»)، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف میں کمی ہوئی اور آپ کو افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی ہے اور آپ نے اس دوا کا ذائقہ پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری (ذات الجنب) کو مجھ پر مسلط کر دے گا؟ اللہ کبھی اسے مجھ پر مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس گھر میں موجود کوئی بھی شخص ایسا نہ بچے جسے (بطورِ بدلہ) یہ دوا نہ دی جائے سوائے میرے چچا کے“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ان سب کو ایک ایک کر کے وہی دوا دی جا رہی تھی، اس دن گھر میں جو مرد موجود تھے (اور عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی فضیلت کا تذکرہ فرماتی تھیں) ان تمام مردوں کو وہ دوا پلائی گئی، یہاں تک کہ ازواج مطہرات کی باری آئی اور انہیں بھی ایک ایک کر کے وہ دوا دی گئی، یہاں تک کہ ہم میں سے ایک خاتون کی باری آئی (ابوالزناد کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں) تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو روزے سے ہوں، لیکن ہم نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے کتنا برا گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے قسم کھانے کے باوجود ہم تمہیں چھوڑ دیں گے، چنانچہ ہم نے انہیں بھی وہ دوا پلا دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "فعرَّفناہ أنہ" لکھا تھا، جبکہ متن میں درست الفاظ کا اثبات "تلخیص الذہبی" اور "مسند احمد" کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "عبد الرحمن بن ابی الزناد" کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 41 / (24870) عن سليمان بن داود بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (24870) میں سلیمان بن داود کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے ماقبل والی روایت بھی دیکھیں۔