حدیث نمبر: 7631
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا عمرو ابن محمد بن أبي رَزين، حدثنا شُعْبة (2)، عن خالد الحذَّاء، عن ميمون أبي عبد الله، عن زيد بن أرقم قال: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَتداوَى من ذات الجَنْب بالقُسْط البحريِّ والزَّيت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قَتَادة عن ميمون أبي عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7443 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم «ذات الجَنْب» ”ذات الجنب“ (پھسلی کے درد یا پھیپھڑوں کی جھلی کی سوزش) کا علاج قسط بحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7631
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره دون ذكر الزيت
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون ذكر الزيت، وهذا إسناد ضعيف من أجل ميمون أبي عبد الله» [ترقيم الرساله 7631] [ترقيم الشركة 7539] [ترقيم العلميه 7443]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: سعيد.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں (ص) اور (م) میں یہ نام تحریف ہو کر "سعید" لکھا گیا ہے۔
(1) صحيح لغيره دون ذكر الزيت، وهذا إسناد ضعيف من أجل ميمون أبي عبد الله -وهو البصري الكندي- وقد اضطرب في لفظه فمرةً يذكر القُسْطَ مع الزيت، ومرةً يذكر الزيت والورس، ومرةَ يذكر الثلاثة معًا.
درجۂ حدیث: روغنِ زیتون کے ذکر کے بغیر یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند "میمون ابو عبد اللہ" (البصری الکندی) کی وجہ سے ضعیف ہے، اس راوی نے حدیث کے الفاظ میں "اضطراب" پیدا کیا ہے؛ کبھی وہ قسط (قسطِ شیریں) کے ساتھ زیتون کا ذکر کرتا ہے، کبھی زیتون اور ورس (ایک زرد بوٹی) کا، اور کبھی تینوں کو یکجا ذکر کر دیتا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2079) عن رجاء بن محمد العُذري، عن عمرو بن محمد بن أبي رزين، بهذا الإسناد. وقال: حسن صحيح لا نعرفه إلَّا من حديث ميمون عن زيد بن أرقم، وقد روى عن ميمون غيرُ واحد هذا الحديث. وفسَّر ذات الجنب بالسِّلِّ.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (2079) میں رجاء بن محمد العذری کے طریق سے عمرو بن محمد بن ابی رزین سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے، ہم اسے صرف میمون عن زید بن ارقم کے طریق ہی سے جانتے ہیں، اگرچہ میمون سے کئی لوگوں نے اسے روایت کیا ہے۔ نیز انہوں نے "ذات الجنب" کی تفسیر "سل" (ٹی بی/پھیپھڑوں کی بیماری) سے کی ہے۔
وأخرجه أحمد 32 / (19289)، والنسائي (7545) من طريق أبي داود الطيالسي، عن شعبة، به. وسيأتي من طريق آخر عن شعبة برقم (8438).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" 32 / (19289) میں اور امام نسائی نے (7545) میں ابو داود طیالسی کے طریق سے امام شعبہ بن الحجاج سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت شعبہ ہی کے ایک اور طریق سے آگے نمبر (8438) پر آئے گی۔
وسيأتي من طريق قتادة برقمي (7632) و (8444)، ومن طريق عبد الرحمن بن ميمون برقم (7633)، كلاهما عن ميمون أبي عبد الله.
تفصیلِ روایت: یہ روایت قتادہ کے طریق سے نمبر (7632) اور (8444) پر، اور عبد الرحمن بن میمون کے طریق سے نمبر (7633) پر آئے گی، یہ دونوں میمون ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں۔
وفي الباب عن أم قيس بنت مِحصن عند البخاري (5718)، ومسلم (2214)، ولفظه: "عليكم بهذا العُود الهندي، فإنَّ فيه سبعةَ أشفية، منها ذات الجَنْب".
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ام قیس بنت محصن کی روایت صحیح بخاری (5718) اور صحیح مسلم (2214) میں موجود ہے، جس کے الفاظ ہیں: "تم اس عودِ ہندی (قسط) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، جن میں سے ایک ذات الجنب ہے"۔
وذات الجَنْب: التهاب في الغشاء المحيط بالرئة.
نوٹ / توضیح: "ذات الجنب" سے مراد پھیپھڑوں کے گرد جھلی کی سوزش (Pleurisy) ہے۔
والقُسط البحري: هو العود الهندي، قال أبو بكر بن العربي: القسط نوعان: هندي وهو أسود، وبحري وهو أبيض، والهندي أشدهما حرارة.
نوٹ / توضیح: قسط بحری سے مراد عودِ ہندی ہی ہے۔ ابو بکر بن العربی فرماتے ہیں کہ قسط کی دو قسمیں ہیں: ہندی جو سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، اور بحری جو سفید ہوتی ہے، اور ہندی ان میں زیادہ گرم ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7631 سے ماخوذ ہے۔