کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز ریشم اور سونا نہ پہنے
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بحر بن نصر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث وغيرُه، عن سليمان بن عبد الرحمن [عن القاسم] (2) عن أبي أُمامة الباهِلي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخَر فلا يَلبَسْ حريرًا ولا ذهبًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7402 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7402 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ریشم اور سونا ہرگز نہ پہنے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وحدّثنا أبو العباس، حَدَّثَنَا بحر بن نصر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانة المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقبةَ بن عامر الجُهَني يُخبر: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَمنَعُ أهلَه الحِلْيةَ، ويقول: "إنْ كنتُم تُحبُّون حِليةَ الجنة وحريرَها، فلا تَلْبَسْنَها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7403 - لم يخرجا لأبي عشانة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7403 - لم يخرجا لأبي عشانة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اہل و عیال کو زیورات (پہننے) سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے: ”اگر تم جنت کے زیورات اور وہاں کے ریشم کو پسند کرتے ہو تو انہیں (دنیا میں) مت پہنو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب والحسين بن محمد القَبَّاني، قالا: حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام، أخبرني أبي، عن (2) قَتَادة عن داود السَّرّاج، عن أبي سعيد الخُدْرِي، أَنَّ نبيَّ الله ﷺ قال: "مَن لَبِسَ الحريرَ في الدنيا لم يَلبَسْه في الآخرة، وإن دخل الجنةَ لَبِسَه أهلُ الجنة ولم يَلبَسْه" (3).
هذا حديث صحيح، وهذه اللفظة تُعلِّل الأحاديثَ المختصَرة أنَّ من لبسها لم يدخل الجنة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7404 - صحيح
هذا حديث صحيح، وهذه اللفظة تُعلِّل الأحاديثَ المختصَرة أنَّ من لبسها لم يدخل الجنة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7404 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا، اور اگر وہ جنت میں داخل بھی ہو گیا تو اہل جنت اسے پہنیں گے مگر وہ (جس نے دنیا میں پہنا تھا) اسے نہیں پہن سکے گا۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اور (حدیث کے) یہ الفاظ ان مختصر احادیث کی علت و وضاحت بیان کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جس نے اسے پہنا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور (حدیث کے) یہ الفاظ ان مختصر احادیث کی علت و وضاحت بیان کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جس نے اسے پہنا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا محمد بن بكر، حَدَّثَنَا ابن جُرَيج، عن عِكرمة بن خالد، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: إنما نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عن المُصْمَت إِذا كان حريرًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7405 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7405 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «المُصْمَت» (ایسا کپڑا جو خالص ریشم سے بنا ہو) سے منع فرمایا ہے جبکہ وہ ریشم کا ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسن بن حَلِيم (2) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو تُمَيلة، عن عبد المؤمن بن خالد، عن عبد الله بن بُرَيدة (3)، عن أمِّه، عن أم سَلَمة قالت: لم يكن ثوبٌ أحبَّ إلى رسول الله ﷺ من القَميصِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7406 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7406 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک کپڑوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس قمیص (کرتہ) تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن الِهلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن سُوَيد ابن قيس، قال: جَلَبَتُ ومَخْرمة العبديُّ بَزًّا من هَجَر، فأتانا النبيُّ ﷺ فاشترى منا رِجْلَ سَرَاوِيلَ، ووزّانٌ يَزِنُ بالأَجر، فقال للوزَّان: "زِنْ وأَرجِحْ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7407 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7407 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر (شہر) سے کپڑا (تجارت کے لیے) لے کر آئے، ہمارے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہم سے ایک پاجامہ (شلوار) خریدی، وہاں ایک وزن کرنے والا تھا جو اجرت پر وزن کرتا تھا، آپ ﷺ نے اس وزن کرنے والے سے فرمایا: ”وزن کرو اور (پلڑا) جھکتا ہوا رکھو (یعنی تول میں فیاضی کرو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔