المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَلَا يَلْبَسَنَّ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا باب: جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز ریشم اور سونا نہ پہنے
حدیث نمبر: 7595
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بن الحسن الِهلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن سُوَيد ابن قيس، قال: جَلَبَتُ ومَخْرمة العبديُّ بَزًّا من هَجَر، فأتانا النبيُّ ﷺ فاشترى منا رِجْلَ سَرَاوِيلَ، ووزّانٌ يَزِنُ بالأَجر، فقال للوزَّان: "زِنْ وأَرجِحْ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7407 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر (شہر) سے کپڑا (تجارت کے لیے) لے کر آئے، ہمارے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہم سے ایک پاجامہ (شلوار) خریدی، وہاں ایک وزن کرنے والا تھا جو اجرت پر وزن کرتا تھا، آپ ﷺ نے اس وزن کرنے والے سے فرمایا: ”وزن کرو اور (پلڑا) جھکتا ہوا رکھو (یعنی تول میں فیاضی کرو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. سفيان: هو الثَّوري.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند سماک بن حرب کی وجہ سے حسن ہے۔ سفیان سے مراد "ثوری" ہیں۔
وسلف برقم (2261).
نوٹ / توضیح: یہ نمبر (2261) پر گزر چکی ہے۔
قوله: "رجل سراويل" هو كما يقال: اشترى زوجَ خُفٌ، وزوجَ نعل، وإنما هما زوجان، يريد رِجَلَيْ سراويل، لأنَّ السراويل من لباس الرِّجلين. قاله ابن الأثير في "النهاية".
نوٹ / توضیح: مصنف کا قول "رجل سراويل" (شلوار کی ایک ٹانگ) بالکل ویسا ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے: اس نے خف (موزوں) کا جوڑا خریدا، یا جوتوں کا جوڑا خریدا، حالانکہ وہ دو ہوتے ہیں۔ یہاں مراد شلوار کے دو پائنچے ہیں، کیونکہ شلوار دونوں ٹانگوں کا لباس ہے۔ یہ بات ابن اثیر نے "النھایۃ" میں کہی ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند سماک بن حرب کی وجہ سے حسن ہے۔ سفیان سے مراد "ثوری" ہیں۔
وسلف برقم (2261).
نوٹ / توضیح: یہ نمبر (2261) پر گزر چکی ہے۔
قوله: "رجل سراويل" هو كما يقال: اشترى زوجَ خُفٌ، وزوجَ نعل، وإنما هما زوجان، يريد رِجَلَيْ سراويل، لأنَّ السراويل من لباس الرِّجلين. قاله ابن الأثير في "النهاية".
نوٹ / توضیح: مصنف کا قول "رجل سراويل" (شلوار کی ایک ٹانگ) بالکل ویسا ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے: اس نے خف (موزوں) کا جوڑا خریدا، یا جوتوں کا جوڑا خریدا، حالانکہ وہ دو ہوتے ہیں۔ یہاں مراد شلوار کے دو پائنچے ہیں، کیونکہ شلوار دونوں ٹانگوں کا لباس ہے۔ یہ بات ابن اثیر نے "النھایۃ" میں کہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7595 سے ماخوذ ہے۔