کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو اور رنگ نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ہو اور مہک (باہر) نہ پھیلے
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا أَركَبُ الأُرجُوانَ، ولا أَلْبَسُ المُعصفَر، ولا أَلْبَسُ القميص المُكفَّفَ بالحرير"، وأومأَ الحسنُ إلى جَيْب قميصه، وقال رسولُ الله ﷺ: "ألا وطِيبُ الرجلِ رِيحٌ لا لونَ له، وطِيبُ النّساءِ لونٌ لا ريحَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإنَّ مشايخَنا، وإن اختلفوا في سماع الحسن عن عِمران بن حُصين، فإِنَّ أكثرَهم على أنه سمع منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7400 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإنَّ مشايخَنا، وإن اختلفوا في سماع الحسن عن عِمران بن حُصين، فإِنَّ أكثرَهم على أنه سمع منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7400 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ میں ارجوان (گہرے سرخ رنگ کی زین پوش) پر سوار ہوتا ہوں، نہ کسم سے رنگا ہوا لباس پہنتا ہوں، اور نہ ہی ریشم کی پٹی لگی ہوئی قمیص پہنتا ہوں“، اور (راوی) حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو مگر رنگ نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ہو مگر مہک نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ہمارے مشائخ کا حسن بصری کے عمران بن حصین سے سماع میں اختلاف ہے، تاہم ان میں سے اکثر کا موقف ہے کہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ہمارے مشائخ کا حسن بصری کے عمران بن حصین سے سماع میں اختلاف ہے، تاہم ان میں سے اکثر کا موقف ہے کہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔
أخبرني أبو بكر بن عبد الله بن قُريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حَدَّثَنَا زياد بن عبد الله البَكَّائي، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، أنَّ أنس بن مالك حدّثه قال: ما شبَّهتُ الناسَ اليومَ في المسجد وكثرةَ الطَّيالِسةِ إلَّا بيهودِ خيبر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومعناه الطَّيالسة المُصبَّغة، فإنها لِباسُ اليهود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7401 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومعناه الطَّيالسة المُصبَّغة، فإنها لِباسُ اليهود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7401 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: آج کل میں مسجد میں لوگوں اور چادروں (طیالسہ) کی کثرت کو خیبر کے یہودیوں کے مشابہ پاتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا مطلب رنگین چادریں ہیں کیونکہ وہ یہودیوں کا لباس تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا مطلب رنگین چادریں ہیں کیونکہ وہ یہودیوں کا لباس تھا۔