حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حَدَّثَنَا محمد بن المهاجِر، أخبرني العباس بن سالم اللَّخْمي، عن أبي سلَّام الأسود، قال: بلغَ عمرَ بنَ عبد العزيز أنه يُحدِّث عن ثوبانَ حديثَ أبي الأحوص، قال: فبَعَثَ إليه، فحُمِلَ على البَريد، قال: فلما انتهى إليه فدخل عليه سَلَّم، وقال: يا أميرَ المؤمنين، لقد شَقَّ على رِجْلَيَّ مَرْكَبي من البَريد، قال: فقال عمرُ كالمتوجِّع: ما أرَدْنا المَشقَّةَ عليك يا أبا سلَّام، ولكن بَلَغني حديثٌ تُحدِّثه عن ثَوْبان عن نبيِّ الله ﷺ في الحوض، فأحببتُ أن تُشافِهَني به مشافهةً، قال أبو سلَّام: سمعتُ ثوبان يقول: قال رسول الله ﷺ: "حَوْضِي مَا بينَ عَدَنٍ إِلَى عَمَّانِ البَلْقاءِ، ماؤُه أشدُّ بياضًا من اللبن وأحلى من العَسَل، وأَكاوِبُه عددُ النُّجوم، مَن شَرِبَ منه شَرْبةً لم يَظمَأْ بعدها أبدًا، أولُ الناس وُرودًا عليه فقراءُ المهاجرين الشُّعْثُ رؤوسًا، الدُّنْسُ ثِيابًا، الذين لا يَنكِحون المنعَّمات، ولا تُفتَحُ لهم السُّدَد". قال: فقال عمرُ: لكني قد نَكَحتُ المنعَّماتِ، فاطمةَ بنتَ عبد الملك، وفُتِحَتْ [لي] (1) السُّدَد، ولا جَرَمَ أني لا أغسِلُ رأسي حتَّى يَشعَثَ، ولا ثوبي الذي يَلِي جسدي حتَّى يَتَّسِخَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7374 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7374 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو سلام اسود سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو یہ بات پہنچی کہ وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حوضِ کوثر کی حدیث بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں ڈاک کے گھوڑے «البريد» پر لایا گیا۔ جب وہ پہنچے اور سلام کر کے داخل ہوئے تو عرض کیا: اے امیر المومنین! ڈاک کی سواری نے میری ٹانگوں پر بڑی مشقت ڈالی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے دردمندی سے فرمایا: اے ابو سلام! ہمارا مقصد آپ کو مشقت میں ڈالنا نہیں تھا، لیکن مجھے ایک حدیث پہنچی تھی جو آپ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی حوضِ کوثر کے متعلق بیان کرتے ہیں، تو میں نے پسند کیا کہ میں اسے بالمشافہ (براہِ راست) آپ کی زبانی سنوں۔ ابو سلام نے کہا: میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمانِ بلقاء تک (کی مسافت جتنا) وسیع ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے جام ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جو اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی، وہاں سب سے پہلے پہنچنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے، وہ جو آسودہ حال و ناز و نعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے اور جن کے لیے (بڑے لوگوں کے) دروازے نہیں کھولے جاتے۔“ (یہ سن کر) سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: لیکن میں نے تو ناز و نعم والی فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کر لیا ہے اور میرے لیے دروازے بھی کھولے جاتے ہیں، اب میں اپنا سر تب تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہو جائے اور نہ ہی وہ کپڑا جو میرے جسم کے ساتھ مس ہوتا ہے (تب تک دھوؤں گا) جب تک وہ میلا نہ ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي المهلَّب، عن سَمُرةَ بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ: "عليكم بهذا الثِّيابِ (1) البَيَاض، فلْيَلبَسْه أحياؤُكم، وكَفِّنوا فيه موتاكم، فإنه من خيرِ ثيابِكم"، أو قال: "من خيرِ لِباسِكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيَينة وإسماعيل ابن عُليَّة أرسلاه عن أيوب. وأما حديث ابن عُيينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7375 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيَينة وإسماعيل ابن عُليَّة أرسلاه عن أيوب. وأما حديث ابن عُيينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7375 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان سفید کپڑوں کو لازم پکڑو، تمہارے زندوں کو یہی پہننے چاہئیں اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفن دیا کرو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ سفیان بن عیینہ اور اسماعیل ابن علیہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرسل بیان کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ سفیان بن عیینہ اور اسماعیل ابن علیہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرسل بیان کیا ہے۔
فأخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان بن عُيينة، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن سَمُرَةَ بن جُندُب: ذَكَرَ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ قال: "عليكم بهذه البَيَاض، لِيَلبَسُها أحياؤُكم، وكَفِّنوا فيها مَوْتاكم" (3). وأما حديث إسماعيل ابن عُليَّة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی سفیان بن عیینہ والی روایت میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم ان سفید کپڑوں کو لازم پکڑو، تمہارے زندوں کو یہی زیب تن کرنے چاہئیں اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفن دیا کرو۔“
فحدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا موسى بن سهل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن أبي قِلابة (1)، عن سَمُرة بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ: "عليكم بهذه البَيَاض، لِيَلبَسْها أحياؤُكم، وكفِّنُوا فيها موتاكم، فإنَّها من خِيارِ ثيابِكم" (2). وقد رُويَ عن عبد الله بن عباس وسَمُرة بن جُندُب عن النَّبِيِّ ﷺ بزيادة ألفاظ فيه. أمّا حديثُ ابن عباس:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی اسماعیل ابن علیہ والی روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان سفید کپڑوں کو لازم پکڑو، تمہارے زندہ لوگ یہی پہنیں اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفن دیں، کیونکہ یہ تمہارے بہترین لباس ہیں۔“