کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المَدائني، حَدَّثَنَا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حَدَّثَنَا عِكْرمة بن عمّار العِجلي، حدثني أبو زُمَيل، حدثني عبد الله بن الدُّؤَل، حدثني عبد الله بن عباس قال: لما خرجتِ الحَرُوريَّةُ اجتمعوا في دارٍ وهُم (1) ستةُ آلاف، أتيتُ عليًّا فقلتُ: يا أميرَ المؤمنين، أبرِدْ بالصلاة، لعلِّي آتي هؤلاء القومَ فأُكلِّمَهم، قال: إنِّي أخافُ عليك، قال: قلتُ: كلّا، قال: فخرجتُ إليهم ولبستُ أحسن ما يكون من حُلَلِ اليمن - قال أبو زُميل: وكان ابن عباس جميلًا جهيرًا - قال ابن عَبَّاس: فأتيتُهم وهم مجتمِعون في دارٍ وهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، قالوا: مرحبًا بك يا ابنَ عباس، فما هذه الحُلَّة؟ قلتُ: ما تَعِيبُون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، وقرأتُ ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32]؛ ثم ذكر مناظرةَ ابن عباس المشهورة معهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروریہ (خوارج) نکلے تو وہ ایک گھر میں جمع ہوئے اور وہ چھ ہزار تھے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے امیر المومنین! نماز کو ذرا ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے کہا: مجھے آپ کے متعلق اندیشہ ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، (ابوزمیل کہتے ہیں کہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور بلند آواز والے تھے، ابن عباس کہتے ہیں کہ میں یمن کے بہترین لباس زیب تن کر کے ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! یہ لباس کیسا ہے؟ میں نے کہا: تم مجھ پر کیا عیب لگاتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ﷺ پر بہترین لباس دیکھے ہیں، اور میں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ ”آپ کہئے کہ اللہ کے اس لباس و زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کیا ہے؟“ [سورة الأعراف: 32] پھر انہوں نے ان کے ساتھ اپنا مشہور مناظرہ ذکر کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن شاذان الجَوهَري، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار قال: قال جابر: خرجنا مع رسول الله ﷺ في بعض مَغازيهِ، فخرج رجلٌ في ثوبين مُنْخِرِقَينِ يريد أن يَسُوقَ بالإبل، فقال له رسول الله ﷺ: "ما له ثَوْبانِ غيرُ هذا (1)؛" قيل: إِنَّ في عَيْبتِه ثوبين جديدين، قال: "ايتُونِ بعَيْبتِه"، ففتحها، فإذا فيها ثوبانِ، فقال للرجل: "خُذْ هذينِ فَالْبَسْهما وأَلْقِ المُنخرِقَين" ففعل، ثم ساق بالإبل، فنظر رسولُ الله ﷺ في أثره كالمتعجِّب من بُخلِه على نفسه بالثوبين، فقال له: "ضربَ الله عُنقَكَ" فالْتَفتَ إليه الرجلُ، فقال: "في سبيلِ الله"، فقُتل يوم اليَمَامة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في غير موضع بهشام بن سعد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ الحديث عند مالك عن زيد بن أسلم عن جابر:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في غير موضع بهشام بن سعد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ الحديث عند مالك عن زيد بن أسلم عن جابر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، ایک شخص دو پھٹے پرانے کپڑوں میں نکلا جو اونٹ ہانکنا چاہتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا: ”کیا اس کے پاس ان کے علاوہ دو (کپڑے) اور نہیں ہیں؟“ عرض کیا گیا: اس کے تھیلے میں دو نئے کپڑے موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا تھیلا میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے اسے کھولا تو اس میں دو کپڑے تھے، آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”یہ دونوں پکڑو اور انہیں پہن لو اور ان پھٹے پرانوں کو پھینک دو۔“ اس نے ایسا ہی کیا اور اونٹ ہانکنے لگا، رسول اللہ ﷺ اس کے پیچھے اس طرح دیکھتے رہے جیسے اس کے اپنے نفس پر اس بخل سے تعجب کر رہے ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری گردن مارے۔“ تو وہ شخص آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: (اے اللہ کے رسول! کیا) اللہ کی راہ میں؟ تو وہ یمامہ کی جنگ میں شہید کر دیے گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے کئی مقامات پر ہشام بن سعد سے استدلال کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مالک کے ہاں یہ حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے کئی مقامات پر ہشام بن سعد سے استدلال کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مالک کے ہاں یہ حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصر قال: عبد الله بن وهب قال: أخبرني مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن جابر بن عبد الله (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے امام مالک کی سند کے ساتھ بھی یہی روایت مروی ہے۔
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن سعد، عن قيس بن بِشْر التَّغْلِبي، قال: كان أبي جَليسًا لأبي الدَّرداء بدمشق، وكان بدمشقَ رجلٌ من أصحاب رسولِ الله ﷺ من الأنصار يقال له: ابن الحنظليَّة، وكان مُتوحِّدًا قلَّما يُجالِس الناسَ، إنما هو في صلاةٍ، فإذا انصرف فإنما هو تكبيرٌ وتسبيحٌ وتهليلٌ حتَّى يأتيَ أهلَه، فمرَّ بنا يومًا ونحن عند أبي الدرداءِ فسَلَّم، فقال أبو الدرداءِ: كلمةً تَنفعُنا ولا تضرُّك، فقال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّكم قادِمونَ على إخوانِكم، فأحسِنُوا لِباسَكم، وأصلِحُوا رِحالَكم، حتَّى تكونوا كأنكم شامَةٌ في الناس، إنَّ الله لا يُحِبُّ الفُحْشَ والتفحُّشَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وابنُ الحنظلية الذي لم يُسمِّه الراوي (2) هو سهلُ بن الحَنظَلية، من زُهّاد الصحابة رِضوان الله عليهم أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7371 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وابنُ الحنظلية الذي لم يُسمِّه الراوي (2) هو سهلُ بن الحَنظَلية، من زُهّاد الصحابة رِضوان الله عليهم أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7371 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے، دمشق میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک انصاری شخص تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین تھے اور لوگوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتے تھے، وہ نماز میں مشغول رہتے اور جب فارغ ہوتے تو اپنے گھر جانے تک تکبیر، تسبیح اور تہلیل میں مصروف رہتے۔ ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے سلام کیا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں نفع دے اور آپ کو نقصان نہ پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو، لہٰذا اپنے لباس کو درست رکھو اور اپنی سواریوں کے سامان کی اصلاح کرو یہاں تک کہ تم لوگوں کے درمیان ایسے نمایاں ہو جاؤ جیسے تِل (خوبصورتی کا نشان) ہوتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدکلامی کو پسند نہیں فرماتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ابن حنظلیہ جن کا نام راوی نے نہیں لیا وہ سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابہ کرام کے زاہدین میں سے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور ابن حنظلیہ جن کا نام راوی نے نہیں لیا وہ سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابہ کرام کے زاہدین میں سے تھے۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن [أبي] أيوب، عن أبي مَرحُوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن (3) أنس الجُهَني، عن أبيه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال: "مَن تركَ اللِّباسَ وهو يَقدِرُ عليه تواضعًا الله ﷿، دَعَاه الله ﷿ يومَ القيامة على رُؤوس الخلائق حتَّى يُخيِّرَه من حُلَلِ الإيمانِ يَلْبَسُ أيَّها شاءَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7372 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7372 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ عزوجل کی خاطر عاجزی و انکساری اختیار کرتے ہوئے (قیمتی اور فاخرانہ) لباس پہننا چھوڑ دیا حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے پکارے گا یہاں تک کہ اسے اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے حُلّوں (لباسوں) میں سے جو چاہے پسند کر کے پہن لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عَبَّاس، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: يقولون: فِيَّ التِّيهُ، وقد ركبتُ الحمارَ، واعتَقَلتُ الشاةَ، وَلَبِستُ الشَّمْلةَ، وقد قال رسول الله ﷺ: "مَن فعلَ هذا فليس فيه شيءٌ من الكِبْر" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ (میرے بارے میں) کہتے ہیں کہ مجھ میں تکبر ہے، حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوا، میں نے بکری کو پکڑا (یا اس کا دودھ نکالا) اور میں نے معمولی کملی زیب تن کی، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس نے یہ کام کیے (یعنی ایسی سادگی اختیار کی) اس میں تکبر کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔