کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر (اکیلے) پیٹ بھر کر نہ کھائے
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبيه عن عَبَاية بن رِفاعة، قال: بلغ عمرَ أنَّ سعدًا لمّا بنى القصرَ قال: انقطَعَ الصُّوَيت (1)، فبعث إليه محمدَ بن مَسلَمة … الحديث، وقال في آخره قال عمر: إنِّي كرهتُ أن آمرَ لك، فيكون لك الباردُ وليَ الحارُّ، وحولي أهلُ المدينة قد قتلهم الجوعُ، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يَشبَعُ الرجلُ دون جارِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے محل تعمیر کیا تو کہا: ”اب (عام لوگوں کا) شور و غل «الصُّوَيت» منقطع ہو گیا“، تو انہوں نے ان کی طرف محمد بن مسلمہ کو بھیجا... اور اس کے آخر میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں تمہیں (ایسا) حکم دوں جس میں تمہارے لیے تو آسانی ہو اور میرے لیے تنگی، حالانکہ میرے ارد گرد اہل مدینہ کو بھوک نے نڈھال کر رکھا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر اکیلا سیر نہیں ہوتا“۔
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفيّ، حدّثنا موسى بن هارون، حدّثنا أبو الربيع الزَّهْرانيّ، حدّثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله، إنَّ لي جارَينِ بأيِّهما أبدأُ؟ قال: "بأقرَبِهما منكِ بابًا" (3). هكذا يرويه جعفر بن سليمان عن أبي عمران الجَونيّ، والصحيحُ رواية شُعبة:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں (ہدیہ دینے کی) ابتدا کس سے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو“۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير، عن شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا محمد بن جعفر، عن شُعْبة (1)، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن طلحة بن عبد الله، رجل من بني تَيْم الله، عن عائشة قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، إِنَّ لي جارَينِ، فإلى أيِّهما أُهدي؟ قال: "إلى أقرَبِهما منكِ بابًا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس کو ہدیہ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ طلحہ بن عبداللہ بن عوف ان راویوں میں سے ہیں جن کی روایت پر شیخین کا اتفاق ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ طلحہ بن عبداللہ بن عوف ان راویوں میں سے ہیں جن کی روایت پر شیخین کا اتفاق ہے۔
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة، عن ابن الهادِ، أنَّ الوليد بن أبي هشام حدَّثه عن أبي موسى الأشعريّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لن تُؤْمِنوا حتى تحابُّوا، أفلا أدلُّكم على ما تَحابُّون (4) عليه؟ " قالوا: بلى يا رسولَ الله، قال: "أَفشُوا السلامَ بينكم تَحابُّوا، والذي نفسي بيده، لا تدخلوا الجنَّةَ حتى تَراحَمُوا" قالوا: يا رسولَ الله، كلُّنا رحيمٌ، قال: "إنه ليس برحمةِ أحدِكم (1)، ولكن رحمةُ العامَّة، رحمةُ العامَّة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7310 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7310 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں سلام کو عام کرو، تم میں محبت پیدا ہو جائے گی؛ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم ایک دوسرے پر رحم کرو“، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سب رحم دل ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف تمہاری اپنی (خصوصی) رحمت نہیں بلکہ عام مخلوق پر رحم کرنا ہے، عام مخلوق پر رحم کرنا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔