حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلانيّ، حدَّثني أبو سعيد الغِفَاريّ، أنه قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "سيصيبُ أمتي داءُ الأُمَم" فقالوا: يا رسولَ الله، وما داءُ الأمم؟ قال: "الأَشَرُ، والبَطَرُ، والتكاثرُ، والتناجشُ (3) في الدنيا، والتباغُض، والتحاسُدُ حتى يكونَ البَغْيُ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7311 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7311 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”عنقریب میری امت کو پہلی امتوں والی بیماری لاحق ہو جائے گی“، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پہلی امتوں کی بیماری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ناشکری، حد سے زیادہ اترانا، کثرتِ مال کی ہوس، دنیا کے معاملے میں ایک دوسرے کو دھوکا دینا، باہمی بغض اور حسد، یہاں تک کہ سرکشی اور ظلم پیدا ہو جائے گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدّثنا إبراهيم بن الحسين، حدّثنا آدم بن أبي إياس، حدّثنا شُعبة، عن أبي بَلْج يحيى بن أبي سُليم، قال: سمعت عَمرو (1) بن ميمون، يحدّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سرَّه أن يَجِدَ طعم الإيمان، فليُحِبَّ المرء لا يُحِبُّه إلا الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7312 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7312 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کی حلاوت (ذائقہ) پا لے، اسے چاہیے کہ وہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔