حدیث نمبر: 7495
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبيه عن عَبَاية بن رِفاعة، قال: بلغ عمرَ أنَّ سعدًا لمّا بنى القصرَ قال: انقطَعَ الصُّوَيت (1)، فبعث إليه محمدَ بن مَسلَمة … الحديث، وقال في آخره قال عمر: إنِّي كرهتُ أن آمرَ لك، فيكون لك الباردُ وليَ الحارُّ، وحولي أهلُ المدينة قد قتلهم الجوعُ، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يَشبَعُ الرجلُ دون جارِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے محل تعمیر کیا تو کہا: ”اب (عام لوگوں کا) شور و غل «الصُّوَيت» منقطع ہو گیا“، تو انہوں نے ان کی طرف محمد بن مسلمہ کو بھیجا... اور اس کے آخر میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں تمہیں (ایسا) حکم دوں جس میں تمہارے لیے تو آسانی ہو اور میرے لیے تنگی، حالانکہ میرے ارد گرد اہل مدینہ کو بھوک نے نڈھال کر رکھا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر اکیلا سیر نہیں ہوتا“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7495
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكن رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة كما قال أبو زرعة» [ترقيم الرساله 7495] [ترقيم الشركة 7404] [ترقيم العلميه 7308]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ص) و (م): الصوت.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں (یہاں) "الصوت" کا لفظ ہے۔
(2) رجاله ثقات، لكن رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة كما قال أبو زرعة.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن عبایہ بن رفاعہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت "مرسل" ہے (منقطع ہے)، جیسا کہ ابو زرعہ نے کہا ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 1/ (390). وانظر تتمة تخريجه والكلام عليه هناك.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (1/ 390) میں موجود ہے۔ اس کی مکمل تخریج اور کلام وہاں ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7495 سے ماخوذ ہے۔