کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
فأخبرَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن أبي قابُوس، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو يرفعُه إلى النبيِّ ﷺ، قال: "الراحمون يَرحَمُهم الله ارحَمَوا أهلَ الأرض يَرحَمْكم أهلُ السماء، الرَّحِمُ شُجْنةٌ من الرحمن، فمَن وَصَلَها وصلَه، ومَن قَطَعَها قطعَه" (2). قال الحاكم رحمه الله تعالى: وهذه الأسانيد كلها صحيحة، وإنما استقصيتُ في أسانيدها بذكر الصحابة ﵃، لئلا يتوهَّمَ متوهمٌ أنَّ الشيخين ﵄ لم يُهمِلا الأحاديثَ الصحيحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7274 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7274 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا، رشتہ داری (رحم) رحمن کی ایک شاخ ہے، پس جس نے اسے جوڑا اس نے (اللہ کے تعلق کو) جوڑ لیا اور جس نے اسے توڑا اللہ اسے کاٹ دے گا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ تمام اسانید صحیح ہیں، میں نے صحابہ کے تذکرے کے ساتھ ان کی اسانید کی پوری تحقیق اس لیے کی ہے تاکہ کوئی یہ وہم نہ کرے کہ شیخین نے صحیح احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: یہ تمام اسانید صحیح ہیں، میں نے صحابہ کے تذکرے کے ساتھ ان کی اسانید کی پوری تحقیق اس لیے کی ہے تاکہ کوئی یہ وہم نہ کرے کہ شیخین نے صحیح احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن سِماك بن حَرْب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه قال: انتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو في قُبَّة من أَدَمٍ حمراءَ في نحوٍ من أربعين رجلًا، فقال: "إنه مفتوحٌ لكم، وأنتم منصورون ومُصِيبون، فمن أدرَكَ ذلك منكم فليتَّقِ الله، وليأمُرْ بالمعروف، ولْيَنهَ عن المنكر، وليَصِلْ رَحِمَه، ومَثَلُ الذي يُعِينُ قومَه على غير الحق، كَمَثَلِ البعير يَتردَّى فهو يَمُدُّ بذَنَبِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7275 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7275 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں تقریباً چالیس آدمیوں کے ساتھ تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے (فتوحات کے) دروازے کھول دیے گئے ہیں، تمہاری مدد کی جائے گی اور تم مالِ غنیمت پاؤ گے، پس تم میں سے جو اس دور کو پائے اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے روکے اور صلہ رحمی کرے؛ اور اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کی ناحق معاملے میں مدد کرتا ہے اس اونٹ جیسی ہے جو (کنویں میں) گر رہا ہو اور وہ (اسے بچانے کے لیے) اس کی دم پکڑ کر کھینچ رہا ہو (مطلب یہ کہ وہ اسے ہلاکت سے نہیں بچا سکتا)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا علي بن المبارك الصنعاني، حدثنا زيد بن المبارك، حدثنا محمد بن سليمان بن مَسمُول، حدثنا القاسم بن مُخوَّل البَهْزي (2)، سمع أباه يقول: قلتُ: يا رسولَ الله، أَوصِني، قال: "أقِمِ الصلاةَ، وأدِّ الزكاةَ، وصُمْ، رمضانَ، وحُجَّ البيت واعتمر، وبِرَّ والدَيكَ وصِلْ رَحِمَك، وأَقْرِ الضَّيفَ، وأمُرْ بالمعروف، وأنْهَ عن المنكر، وزُلْ مع الحقِّ حيث زال" (1). صحيح الإسناد بشيوخ اليمن، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7276 - ابن مسمول ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7276 - ابن مسمول ضعيف
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن مخول بہزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرو، اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، صلہ رحمی کرو، مہمان کی تواضع کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور جہاں بھی حق ہو اسی کے ساتھ رہو۔“
یہ حدیث علمائے یمن کے نزدیک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث علمائے یمن کے نزدیک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا يحيى بن سعيد القَطَّان، عن عوف. وأخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا عَوف بن أبي جَميلة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لمَّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ جَفَل (2) الناس إليه، وقيل: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ، فجئتُ في الناس لأنظرَ إليه، فلما استبَنَتُ وجهَ رسول الله ﷺ، عرفتُ أن وجهَه ليس بوجه كذّاب، فكان أولَ شيء تكلَّم به أن قال: "يا أيُّها الناسُ، أَفشُوا السلامَ، وأطعِمُوا الطعامَ، وصِلُّوا الأرحامَ، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تَدخلُوا الجنَّة بسَلَام" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ (مدینہ منورہ) تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑے، اور کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ آپ ﷺ کو دیکھنے کے لیے گیا، پھر جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھا تو میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا، آپ ﷺ نے سب سے پہلی بات جو ارشاد فرمائی وہ یہ تھی: ”اے لوگو! سلام کو رواج دو (عام کرو)، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا، همَّام، عن قَتَادةَ، عن أبي ميمونة، عن أبي هريرة قال: قلتُ: يا رسول الله، إنِّي إذا رأيتُك طابَتْ نفسي وقَرَّتْ عيني، فأنبِئْني من كلِّ شيء، قال: "كلُّ شيءٍ خُلِقَ من ماء" قال: قلتُ: أنبِئْني عن أمرٍ إذا عملتُ به دخلتُ الجنَّة، قال: "أَفْشِ السلامَ، وأَطعِمِ الطعامَ، وصِلِ الأرحامَ، وقُمْ بالليل والناسُ نِيامٌ، ثم ادخُلِ الجنَّةَ بسلام" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7278 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7278 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں، پس مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے“، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جسے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو اس وقت (عبادت کے لیے) کھڑے ہو جب لوگ سو رہے ہوں، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا بكر بن سهل، حدثنا محمد بن بكّار بن بلال، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادةَ، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ: قال: "مكتوبٌ في التوراة: مَن سرَّه أن تطولَ حياتُه، ويُزادَ في رزقه، فليصِلْ رَحِمَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث يونس بن يزيد عن الزُّهْري عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7279 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث يونس بن يزيد عن الزُّهْري عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7279 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تورات میں لکھا ہے: جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کی زندگی لمبی ہو اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے، اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔“
یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف یونس بن یزید کی زہری سے اور انہوں نے سیدنا انس سے روایت کردہ حدیث پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف یونس بن یزید کی زہری سے اور انہوں نے سیدنا انس سے روایت کردہ حدیث پر اتفاق کیا ہے۔